نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کر رہے مظاہرین، جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی شامل ہے، کو شاہین باغ سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی عرضی کو خارج کر دیا۔ علاوہ ازیں عرضی میں ڈی این ڈی فلائی وے سمیت تمام علاقہ میں ٹریفک کو صحیح طریقہ سے چلانے کے مقصاد سے لگائے گئے بیریکیڈس اور رکاوٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
Delhi High Court refuses to entertain a plea seeking direction to remove police barricades in Delhi's Shaheen Bagh area as it is causing traffic issues and to shift protesters (against Citizenship Amendment Act and NRC) to some other place. pic.twitter.com/cJbUcBmPUp
— ANI (@ANI) January 10, 2020
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (آئی جی این او یو) کے اسٹوڈنٹ تشار سچدیو کی طرف سے دائر کی گئی عرضی کو چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس ہری شنکر کی سربراہی والی بنچ نے خارج کر دیا۔
عرضی میں کہا گیا تھا، ’’لاکھوں لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ صورت حال لوگوں کے لئے ایمرجنسی کے مترادف ہے۔ مظاہرین نے سڑکوں کے دونوں اطراف میں بیریکیڈس اور بھاری پتھر لگا دئے ہیں اور پیدل چلنے والوں کو بھی آنے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے ڈیوائڈرس اور سرکاری خزانے سمیت دیگر عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) کے خلاف تقریباً 25 دونوں سے دہلی کے شاہین باغ میں دھرنا جاری ہے اور اس میں بڑی تعداد میں خواتین شرکت کر رہی ہیں جوکہ سردی اور بارش کے باوجود اپنے ارادوں پر ڈٹ گئی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دھرنا 24 گھنٹوں جاری رہتا ہے اور خواتین یہاں باری باری سے حاضری لگا رہی ہیں۔ اس دھرنے میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔
شاہین باغ کے احتجاج کو اب جامعہ کے طلبہ کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ شاہین باغ کا مظاہرہ کمزور نہ پڑ جائے لہذا وہ روزانہ یہاں حاضری لگاتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
