شاہین باغ معاملہ میں سپریم کورٹ نے سماعت کو ملتوی کر دیا ہے اور اب اس معاملے پر 23 مارچ کو سماعت ہوگی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ دہلی میں صورتحال بہتر نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
Shaheen Bagh matter: Supreme Court fixes the matter for further hearing to March 23. The court was hearing pleas seeking removal of anti-Citizenship Amendment Act protesters from Delhi's Shaheen Bagh area. pic.twitter.com/vhT6KfzH4v
— ANI (@ANI) February 26, 2020
واضح رہے کہ جائے احتجاج کو خالی کرانے کے مطالبہ والی عرضی پر بدھ کے روز سماعت ہونی تھی۔ عدالت نے کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا، تاہم یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ صرف شاہین باغ کو خالی کرنے کے مطالبے کی سماعت کر رہا ہے دیگر مقامات کے حوالہ سے نہیں۔
گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے شاہین باغ کے مظاہرین سے بات کرنے کے لئے مذاکرات کاروں کو مقرر کیا۔ مذاکرات کار سنجے ہیگڑے، سادھانا رام چندرن اور وجاہت حبیب اللہ شاہین باغ گئے تھے اور انہوں نے مظاہرین سے بات چیت کی تھی۔ شاہین باغ کے مظاہرین سے گفتگو کے بعد مذاکرات کاروں نے سپریم کورٹ کو رپورٹ بھی پیش کی ہے۔
قبل ازیں سابق انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے شاہین باغ میں سڑک بلاک کیے جانے پر حلف نامہ داخل کیا تھا۔ حلف نامہ میں وجاہت حبیب اللہ نے پولیس کو سڑک کو بلاک کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف احتجاج پرامن طور پر جاری ہے۔ پولیس نے شاہین باغ کے ارد گرد 5 راستے بند کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو