شادیوں میں اسراف : تلنگانہ کے نرمل میں علمائے کرام نے کی اہم پہل

نرمل ( ایجنسیز)مدرسہ روضہ العلوم نرمل( تلنگانہ )میں شہرکی مساجد کے ائمہ،علمائے کرام اورمذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا عبد العلیم قاسمی نائب قاضی نرمل نے کہا کہ شادی کو اسلام میں انتہائی سادگی سے انجام دینے کا تاکید کی گئی ہے لیکن آج مسلمانوں نے دشمنانِ اسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیر رات شادی خانوں میں ڈی جے لگاکر ناچ گانا کرتے ہوئے خوشی کے مواقع کو مخلوق کی ایذاءکا سبب اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا ذریعہ بنالیا ہے اور یہ معاشرے کا بدترین فیشن بنتے جارہاہے،اولین فرصت میں اس پر روک لگانا بے حد ضروری ہے۔جمعیتہ علماء ضلع نرمل کے جنرل سکرٹری مفتی الیاس احمد قاسمی نے کہا کہ ایسی حرکتوں پر روک لگانے کے لئے پوری علما ء وحفاظ اور ائمہ مساجد کو ایک ضروری اور اہم اقدام یہ اٹھانا ہوگا کہ وہ باضابطہ طور پر یہ اعلان کریں کہ ناچ گانا اسلام میں حرام ہے اس لیے جہاں ڈی جے ہوگا یا جہاں موسیقی اور رقص ہوگا ہم لوگ عملی طورپرایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔مفتی احسان شاہ قاسمی صدر صراط مستقیم سوسائٹی نرمل نے کہا کہ اصولی طور پرتمام ہی شرکاء اس کی تائید کرتے ہیں لیکن اس کے نفاذ سے قبل عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں موسیقی کن وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے،عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کے لیے مساجد میں جمعہ کے موقع پر اسے اپنے بیانات کا موضوع بنایا جائے اور گانے بجانے کی حرمت پر مشتمل پمفلٹس تیار کرکے مساجد، عوامی مقامات پر چسپاں کیے جائیں اور اسی سے متعلق شادی خانوں میں سائن بورڈ نصب کیے جائیں تو ان شیطانی رسومات کی روک تھام میں آسانی پیدا ہوگی۔مفتی عبدالعلیم فیصل قاسمی جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء متحدہ ضلع عادل آباد نے کہا کہ ان برائیوں کی روک تھام میں قاضی حضرات اور شادی خانوں کے مالکان کا اہم رول ہوسکتا ہے۔ قاضی حضرات یہ عزم مصمم کرلیں کہ ہم ان شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے جس میں ڈی جے ہوگا یاجہاں موسیقی اوررقص ہوگانیز فنکشن ہال کے مالکان شادی خانے کی بکنگ کے وقت ہی سرپرست لوگوں کو شادی خانے میں ناچ گانے آتش بازی جیسی خرافات سے باز رہنے کی سختی کے ساتھ تاکید کردیں۔اجلاس میں میں شرکائ کی باہمی مشاورت کے بعد شادی کی تقاریب میں ہورہے بے جا رسوم ورواج کے خاتمے کے ضمن میں اولین قدم کے طورپر مندرجہ ذیل امور طئے پائے۔ ان غیر شرعی اموروالی تقاریب میں علمائ ، ائمہ مساجد اور مذہبی تنظیموں کا کوئی بھی نمائند شریک نہ ہو۔عوام کی ذہن سازی کے لئے ائمہ کرام جمعہ کے موقع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی برائی کو بیان کریں۔ شادی خانوں کے مالکین کو تاکید کی جائے کہ ایسی کوئی تقریب بک نہ کریں جس میں ناچ گانا ڈیجے آتش بازی مرفع وغیرہ کا ارتکاب ہو۔بڑی بڑی فلکسیاں بناکرشادی خانوں اور عوامی مقامات پر لگائی جائیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading