سی بی آئی کے ڈائرکٹر اور اسپیشل ڈائرکٹر تمام اختیارات سے محروم

ورما اور آستھانہ کو ہٹانے کے بعد ناگیشور راؤ عبوری ڈائرکٹر مقرر
نئی دہلی ۔ 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کے ڈائرکٹر الوک ورما اور اسپیشل ڈائرکٹر راکیش آستھانہ کو ان کے درمیان جاری جھگڑے کے دوران آج تمام مفوضہ اختیارات سے محروم کردیا گیا۔ ذرائع نے یہ خبر دیتے ہوئے اس واقعہ کو ملک کے کلیدی تحقیقاتی ادارہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا ہے۔ عبوری اقدام کے طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت کابینہ کی تقررات کمیٹی نے اڈیشہ کیڈر سے تعلق رکھنے والے جوائنٹ ڈائرکٹر ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا چارج دی ہے۔ ایک سرکاری حکمنامہ میں کہا گیا ہیکہ ’’کابینہ کی تقررات کمیٹی نے منظوری دی ہے کہ مذکورہ عبوری اقدام کی مدت کے دوران ایم ناگیشور راؤ آئی پی ایس جو فی الحال جوائنٹ ڈائرکٹر کے طور پر برسرخدمت ہیں، فوری اثر کے ساتھ ڈائرکٹر سی بی آئی کے فرائض انجام دیں گے‘‘۔ ناگیشور راؤ نے کل رات جائزہ لینے کے بعد آستھانہ کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ردوبدل کرتے ہوئے تمام نئے چہروں کو شامل کیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ تحقیقاتی افسر کی سطح سے نگرانی کرنے والے افسران کی سطح تک تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ناگیشور راؤ جو 1986 کے اڈیشہ کیڈر سے تعلق رکھنے والے آئی پی ایس افسر ہیں، کل رات دیر گئے سی بی آئی ڈائرکٹر کی حیثیت سے نئی ذمہ داریوں کا جائزہ لے لیا اور ستیش سانا کو اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے بحیثیت سپرنٹنڈنٹ پولیس مقرر کیا۔ ان کے پیشرو تحقیقاتی افسر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اے کے بسی کو ’’مفاد عامہ‘‘ کے تحت ’’فوری اثر‘‘ کے ساتھ پورٹ بلیر منتقل کردیا گیا۔ ناگیشور راؤ، اب گجرات کیڈر کے افسران پراوین سنہا اور اے کے شرما کے ساتھ ایڈیشنل ڈائرکٹر کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ واضح رہیکہ سی بی آئی نے ایک انتہائی حیرت انگیز اور چونکا دینے والا قدم اٹھاتے ہوئے 15 اکٹوبر کو اپنے ہی اسپیشل ڈائرکٹر راکیش آستھانہ کے خلاف ایک ملزم نے مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس قسم کے کسی اقدام کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مبینہ طور پر رشوت دینے والے شخص ستیش سانا کے بیان کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ستیش سانا رشوت کے ایک علحدہ مقدمہ میں تحقیقات کا سامنا کررہا ہے جس میں گوشت برآمد کرنے والے بزنسمین معین قریشی بھی ملوث ہے۔ آستھانہ نے ڈائرکٹر الوک ورما کے خلاف اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ ستیش سانا نے تحقیقات سے راحت کیلئے ورما کو دو کروڑ روپئے ادا کیا تھا۔ سی بی آئی نے آستھانہ کی ٹیم سے تعلق رکھنے والے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیویندر کمار کو بھی گرفتار کرلیا۔ سی بی آئی نے دہلی ہائیکورٹ میں منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ مشہور و معروف دولتمند افراد کے خلاف مقدمات کی تحقیقات کے بہانہ سی بی آئی میں ’’جبری وصولی کا ریاکٹ‘‘ چلایا جارہا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading