جرمن کے شہر ڈریسڈن میں رہنے والے جیکب لنڈینتھل نے اسی سال اگست میں ماسڑ آف سائنس (فزکس) کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی آئی ٹی مدراس میں داخلہ لیا تھا، لیکن ایک اخبار کے مطابق اب اس کو ملک چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے کیونکہ اس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ جیکب نے اخبار ’دی فیڈرل‘ کو بتایا کہ امیگریشن دفتر کے لوگوں نے مظاہروں میں شرکت کرنے کے تعلق سے اس سے رابطہ کیا اور اسے ملک چھوڑنے کے لئے کہا۔
This is dismaying. We used to be a proud democracy, an example to the world: https://t.co/M1MU3CyJVT No democracy punishes freedom of expression. I call on @DrRPNishank to instruct @iitmadras to withdraw the expulsion & allow India to hold its head high in the academic world.
— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) December 24, 2019
جیکب نے بتایا کہ فزکس ڈیپارٹمنٹ نے اس کو مطلع کیا کہ اس کو امیگریشن دفتر میں طلب کیا گیا ہے ’’میں وہاں گیا اور شروع میں گفتگو دوستانہ تھی اس لئے میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں مظاہروں میں کیوں شرکت کر رہا ہوں۔ اس وقت مجھے حالات کی سنجیدگی کا احساس ہوا‘‘۔ جیکب نے مزید بتایا کہ افسران نے بتایا کہ شہر میں ہونے والے تمام مظاہرہ بغیر اجازت کے ہو رہے ہیں اور اس کو ان مظاہروں میں شرکت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ طالب علم کے ویزا پر آیا ہوا ہے۔
جیکب کا کہنا تھا کہ اسے وہاں پتہ لگا کہ جتنے بھی مظاہرہ ہو رہے ہیں وہ غیر قانونی ہیں اور چونکہ وہ طالب علم کے ویزے پر آیا ہوا ہے اس لئے وہ ایسے کسی بھی مظاہرہ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ دوپہر تک چلی اسی بات چیت کے بعد افسران نے اسے جلد از جلد ملک چھورنے کے لئے کہا۔ جیکب نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے معافی نامہ ان کو دیا لیکن انہوں نے اس پر غور نہیں کیا۔
جیکب نے یہ بھی بتایا کہ اس کو اس گفتگو میں کوئی شفافیت نظر نہیں آئی، کیونکہ اسے سوال جواب کرنے والے افسران کے نام نہیں بتائے گئے۔ جیکب کو ہندوستان میں دو سیمسٹر پورے کرنے تھے اور باقی کی تعلیم اس کو جرمن میں حاصل کرنی تھی، لیکن ہندوستان میں اس کا ابھی صرف ایک سیمسٹر ہی پورا ہوا ہے۔
واضح رہے امیگریشن محکمہ نے کوئی وجہ نہیں بتائی ہے لیکن طلباء کو لگتا ہے کہ کیونکہ جیکب نے مظاہروں میں شرکت کی تھی اس لئے اس کو بھیجا جا رہا ہے۔ ایک ویب سائٹ کی خبر کے مطابق اس کے ایک ساتھی طالب علم جس کے ساتھ جیکب نے مظاہرہ میں شرکت کی تھی اس نے بتایا کہ پولیس نے جیکب کی تفصیلات مظاہرہ کے دوران حاصل کر لی تھیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
