سیاہ قانون وقف بل کے خلاف تاریخی شہر اورنگ آباد میں عظیم الشان تحفظ وقف کانفرنس

*مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں خواتین سمیت ہزاروں افراد کی شرکت*
اورنگ آباد 25 مئی ( شاکر دیشمکھ ) یہ ملک آپ کا ہے، آپ نمبر دوکے شہری نہیں ہیں۔ بلکہ آپ اس ملک کے وارث ہیں۔ آپ کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ ملک غلط راہ پر چل پڑا ہے۔ لیکن ہم آسمانی ہدایات کے امین ہیں، ہماری پشت پر لمبی تاریخ ہے ۔ ہم نے تاریخ کی پستیاں اور بلندیاں دیکھی ہیں۔ لہذا ہم اس ملک کے موجودہ ماحول کو بدل کر رہیں گے، اس طرح کی رہنمائی عام خاص میدان پر منعقدہ تحفظ اوقاف اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری محمد یاسین علی بدایونی نے کی ۔ اپنے پرمغز خطاب کے ذریعہ شرکاء میں جوش و ولولہ پیدا کرتے ہوئے موصوف نے تلقین کی کہ مسئلہ صرف وقف ترمیمی قانون کا نہیں ہے، یہ آئین ہند کا مسئلہ ہے، یہ ہمارے وجود و تصخص کا بھی مسئلہ ہے۔ اس لئے ہمیں متحدہ طور پر پوری سنجیدگی کے ساتھ لڑائی لڑنی ہوگی ۔

حکومت کے ذریعہ جھوٹ اور بدنیتی کے ساتھ بنائے گئے وقف ترمیمی قانون کے متعلق اپنے برادران وطن اور غیر مسلم بھائیوں کے پاس جائیں، برادران وطن کو وقف ترمیمی قانون کی خرابیاں اور حکومت کی بدنیتی سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں یقین دلائیں کہ غیر مسلم بھائیوں اور دیگر مذاہب سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے، بلکہ ہماری لڑائی حکومت ہند سے ہے ۔ وقف تحف کے توسط سے ملک اور آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں انھیں بھی ساتھ شامل کرنے ذہن سازی کرنے کا مشورہ بھی انہوں نے دیا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ ملک میں ایک نیا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ منظور کردہ غیر آئینی وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج اور سیاہ قانون رد کروانے کے مقصد سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر انصرام عام خاص میدان پر منعقدہ تحفظ اوقاف اجلاس میں مختلف مذاہب اور سیاسی پارٹیوں کے علاوہ تنظیموں کے عہدیداران اور ذمہ داران نے شرکت کی۔ وقف تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عام خاص میدان کو توحید رسالت اور شریعت کے چاہنے والوں نے انسانی سروں کے سمندر میں تبدیل کر دیا۔

اس تاریخی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل لاء بورڈ کے مولانا عمرین محفوظ الرحمن رحمانی حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف یہ جلسہ عام حکومت کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت نوشتہ دیوار کو پڑھ کر سمجھ لے، غیر آئینی، مسلم و شریعت مخالف اس سیاہ قانون کو عاجلانہ طور پر واپس لے، بصورت دیگر یہی قانون حکومت کے زوال کی وجہ بھی بن جائے گا۔ ایک فیصلہ زمین والوں کا ہے، ایک فیصلہ آسمان والے کا ہے ۔ آسمان والے کا فیصلہ ہی غالب رہے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ حکومت وقف ترمیمی قانون کو واپس لے۔ مولانا عمریں نے مزید واضح کیا کہ وقف جائیدادوں کو ہڑپنے کے مقصد سے یہ قانون لایا گیا ہے۔ ہمارے آباد و اجداد نے اپنی املاک وقف کی ہیں۔

یہ قانون وقف کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ مولانا عمریں نے انتباہ دیا کہ وقف آنے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ بڑا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ پہلے ہم ملک بچانے میدان عمل میں اترے تھے، اب وقف اور شریعت بچانے آئے ہیں۔ مسلمانوں کی تمام ملی و دینی تنظیمیں اس معاملہ میں متحد و متفق ہیں۔ یہ اجتماعیت ہی پرسنل لاء بورڈ کی قوت ہے۔ انہوں نے حوصلہ دیا کہ بزدلی کا شکار نہ ہوں، جوش و جذبہ کے ساتھ اس تحریک کو پرامن طریقے سے عملی جامہ پہنائیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے سابق وزیر جیتند آہاواڑ نے بھی اپنے مخصوص انداز میں وقف ترمیمی قانون کو رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا وقف ترمیمی قانون کو اس لئے واپس لینا ہی ہوگا کیونکہ یہ آئین کے خلاف ہے وقف اللہ کی ملکیت ہوتی ہے۔ ہم ہمارے گھر کے معاملات ہم خود طئے کریں گے حکومت طئے نہیں کر سکتی ہے۔ آہاواڑ نے کہا امباداس کو وقف زمین دینے والا مسلم قوم کا دشمن ہے۔ وقف ترمیمی قانون کی شکل میں مودی حکومت نے ملک کے آئین پر حملہ کیا ہے ۔ ہم اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مقررین کے جذباتی خطاب سے مغلوب ہو کر نوجوانوں کے ہونٹوں سے نعرہ تکبیر بلند ہوتے رہے ۔ منتظمین کے ذریعہ بھی وقف وقفہ سے وقف ترمیمی قانون واپس لینے مشترکہ طور پر نعرے لگوائے گئے ۔ مولانا ملک محتشم نے اپنے خطاب میں کہا مسلمانوں کو پسماندہ اور پبکچر بنانے والی قوم بتا کر مودی حکومت آئین اور جمہوریت کو پبکچر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن مسلمان پبکچر بنانا جانتے ہیں۔ حکومت کا یہ پنکچر بھی بنایا جائے گا۔

عام خاص پر منعقدہ تحفظ اوقاف اجلاس سے سابق وزیر راجیش ٹوپے، شعیب ہاشمی، بھالچندر کانگو، مولانا معز الدین قاسمی، مولانا محفوظ الرحمن فاروقی، الیاس کرمانی، ناصر صدیقی، قاری امین الدین کے علاوہ
مقامی اور مہاراشٹر کے باہر دیگر ریاستوں سے مدعو کئے گئے مختلف مذاہب کے اکابرین نے بھی اپنی مخاطبت میں وقف ترمیمی قانون کو رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ کرسچن سماج کے فادر راناڈے، گورکھناتھ نے بھی اپنے خیالات پیش کئے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading