سکھ مخالف فسادات: مجرموں کو عمر قید کی سزا پر ایس ڈ ی پی آئی کا خیر مقدم

سکھ مخالف فسادات میں ملوث مجرموں کو عمر قید کی سزا دینے کا ایس ڈ ی پی آئی خیر مقدم کرتی ہے

سری کرشنا کمیشن رپورٹ کو نافذ کیا جائے اور بابری مسجد انہدام معاملے میں ملوث ملزموں کے مقدموں کی تیزی سے سماعت کی جائے۔ ایم کے فیضی

نئی دہلی ۔( پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے سن 1984میں ہوئے سکھ مخالف فسادات مقدمہ میں سینئر کانگریس لیڈر سجن کمار اور دیگر افراد کو دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے دئے گئے سزا کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے سجن کمار سمیت تین ملزموں کو عمر قید کی سزا اور دیگر کانگریس اراکین اسمبلی اور کونسلرس کو 10سال کی جیل کی سزا دئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں اگرچہ انصاف ملنے میں کافی تاخیر ہوئی ہے لیکن متاثرین اور کمیونٹی لیڈران کی مسلسل اور مخلصانہ کوشش کے بعد بالآخر انہیں انصاف ملا ہے۔

ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ غور طلب بات یہ ہے کہ فاضل ججس نے اپنے مشاہدے میں کہا ہے کہ اس وقت کی حکمران پارٹی نے پولیس کی مدد سے ان مقدمات کو ختم کرنے کی بڑے پیمانے پر کوشش کی تھی۔اس فیصلے سے ملک کے عوام کو اس بات کا احساس ہو ا ہوگا کہ نفرت پسند حکمران طبقے اقلیتوں اور دیگر مظلوم طبقات کا یکے بعد دیگرے کس طرح قتل عام کرتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سن 1947کے مسلم مخالف فسادات کے بعدجو سب سے بڑا فساد ات ہوئے تھے وہ سن 1984 کے سکھ مخالف فساد ات تھے۔ جس کو ریاست کی جانب سے منظم کیا گیا تھا اور ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنا کر نسل کشی کیا گیا تھا۔

پولیس اور بیوروکریسی نے جان بوجھ کر ملک کی شہریوں کی حفاظت کرنے کے اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کیا تھا۔ستم ظریقی یہ ہے کہ یہ دونوں نسل کشی کے واقعات اقلیتوں کے خلاف تھے جس سے حکمران سیاسی طبقے کا اقلیتوں کے ساتھ اپنایا جانے والا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہوئے کہ چند کانگریس لیڈران نے مذکورہ سکھ فسادات کی قیادت کی تھی ان کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مرکزی کابینہ اور سیاسی باس کے طور پر فروغ دیا گیا تھا۔جس کی ایک تازہ مثال کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کا وزیر اعلی بنایا جاناہے۔ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ کانگریس84کے سکھ مخالف فسادات کے جرم سے دور بھا گ نہیں سکتی لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کا عدالت کے اس فیصلے سے خوش ہوجانا غیر معنی ہے کیونکہ ان کے کارکنان بھی مبینہ طور پر کانگریس ورکرس سے ملکر معصوم سکھوں کا قتل کرتے دیکھے گئے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی حکومتیں دونوں ہی عوام پر غیر انسانی ظلم ڈھانے کے مساوی ذمہ دار ہیں۔ ایم کے فیضی نے سکھ برادران کو اس قانونی لڑائی اور کامیابی کیلئے مبارکبا ددیتے ہوئے کہا کہ اب بھی کئی ایسے مجرم ہیں جواس مقدمے سے فرار ہیں۔ کانگریس کو اس فیصلے سے سبق لینا چاہئے اور ایسے افراد کو پارٹی میں برقرار رکھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ اس طرح کے کئی مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التو ہیں۔ جسٹس سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کو ابھی قبول اور نافذ کیا جاناہے۔بابری مسجد مقدمہ اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن بابری مسجد انہدام معاملہ میں ملوث ملزمان کو عہدوں سے نواز ا جارہا ہے۔ان میں سے ایک ملزم نائب وزیر اعظم اور دیگر کابینی وزراء اور گورنر کے عہدے پر فائز ہوچکے ہیں۔

اب جبکہ معززہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ پولیس اور تفتیشی ایجنسیاں حکمران جماعتوں کے سیاسی مفاد کی خاطر ایسے معاملا ت میں جان بوجھ کر تاخیر کرتی ہیں، لہذا اس طرح کے افسران جو جان بوجھ کر تاخیر کرتے ہیں ان کو سزا دینے کیلئے قانون میں ترمیم کیا جانا چاہئے۔اگر بی جے پی پارٹی مخلص ہے تواسے مہاراشٹرا حکومت سے کہنا چاہئے کہ وہ سری کرشنا کمیشن رپورٹ کی سفارشات کو ہو بہو نافذ کرے۔ اسی طرح اتر پردیش حکومت کو چاہئے کہ وہ رائے بریلی کے کورٹ میں گزشتہ 26سالوں سے اپنے ہی لیڈران جیسے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی ، کلیان سنگھ ،ونئے کٹیار وغیرہ کے خلاف زیر التو مجرمانہ مقدمات کو تیزی سے ختم کرکے انصاف فراہم کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading