سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مہاراشٹر میں چار ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات مکمل کرنے کا حکم
ممبئی (آفتاب شیخ)
سپریم کورٹ آف انڈیا نے مہاراشٹر میں زیر التوا بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے حوالے سے پیر، 6 مئی 2025 کو ایک اہم عبوری فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست بھر کے تمام مقامی خود حکومتی اداروں کے انتخابات چار ماہ کے اندر مکمل کریں اور اس کی اطلاع آئندہ چار ہفتوں میں جاری کی جائے۔
یہ حکم ان تمام میونسپل کارپوریشنوں، نگر پنچایتوں، ضلع پریشدوں اور دیگر اداروں پر لاگو ہوگا جن کی قانونی مدت پوری ہو چکی ہے اور جہاں اس وقت سرکاری منتظمین کے ذریعے نظام چلایا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جمہوریت کی بنیاد منتخب نمائندگی پر ہے اور اس عمل میں تاخیر شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے عبوری حکم سناتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات او بی سی ریزرویشن کے اس فریم ورک کے تحت کرائے جائیں جو جولائی 2022 میں بنتھیا کمیشن کی رپورٹ سے قبل نافذ العمل تھا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ہدایت اس رپورٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی اور اس عبوری حکم کو کسی فریق کے مؤقف پر اثر انداز نہیں سمجھا جائے گا۔
عدالت نے مہاراشٹر حکومت کے وکیل سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے سخت سوالات کیے کہ جب موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت او بی سی طبقات کی شناخت ہو چکی ہے تو انتخابات کو مزید تاخیر کا شکار کیوں رکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانونی چارہ جوئی کے نتائج کا انتظار کیے بغیر بھی انتخابات ممکن ہیں کیونکہ جمہوری عمل کو غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں رکھا جا سکتا۔
عرضی گزار کی نمائندگی کرنے والی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے انتخابات کے فوری انعقاد کی حمایت کی تاہم بنتھیا کمیشن کی رپورٹ کو لاگو کرنے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر ہزاروں او بی سی نشستیں غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں، جو کہ جمہوری نمائندگی کے اصولوں کے منافی ہے۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائن نے کمیشن کی رپورٹ پر طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سیاسی پسماندگی کے آئینی معیارات پر پوری نہیں اترتی۔
عدالت نے مہاراشٹر میں موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا جہاں کئی میونسپل ادارے 2022 سے منتخب نمائندوں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ سرکاری بیوروکریٹس عوامی احتساب کے بغیر بڑے پالیسی فیصلے کر رہے ہیں، جو کہ آئینی اور جمہوری نظم و نسق کے منافی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر انتخابی تیاریوں کا آغاز کریں اور ستمبر 2025 تک تمام بلدیاتی انتخابات مکمل کیے جائیں۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ریاست میں جمہوریت کی بحالی، آئینی اصولوں کے نفاذ، اور عوامی نمائندگی کے حق کی فراہمی کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ریاست میں انتخابی سرگرمیوں میں تیزی متوقع ہے، اور تمام فریقین کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس عمل کو وقت پر مکمل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
