’سُروں کی ملکہ‘ تاریخ کے اوراق میں سمٹ گئیں: سنیترہ اجیت پوا ر

’سُروں کی ملکہ‘ تاریخ کے اوراق میں سمٹ گئیں: سنیترہ اجیت پوار

ممبئی: نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار نے ممتاز گلوکارہ آشابھوسلے کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے موسیقی کے ایک سنہری دور کا خاتمہ ہو گیا ہے اور ’سُروں کی ملکہ‘ اب تاریخ کے اوراق کا حصہ بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آشا بھوسلے کی آواز میں غیر معمولی مٹھاس، تنوع اور جذبات کو پیش کرنے کی بے مثال صلاحیت موجود تھی۔ انہوں نے ہندی، مراٹھی سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں میں ہزاروں گیت گا کر سامعین کے دلوں پر حکمرانی کی۔ ’پیا تو اب تو آجا‘، ’دم مارو دم‘، ’ان آنکھوں کی مستی‘ اور ’چُرا لیا ہے تم نے‘ جیسے کئی گیت آج بھی شائقین میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کی گائیکی میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔

سنیترہ اجیت پوار نے کہا کہ آشا بھوسلے کا موسیقی کا سفر مسلسل محنت، لگن اور فن کے تئیں غیر معمولی وابستگی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے اپنی آواز کے ذریعے کئی نسلوں کو مسحور کیا اور ان کے انتقال سے ہندوستانی موسیقی کی دنیا کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے طویل اور کامیاب کیریئر کے دوران آشا بھوسلے کو متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا اور انہوں نے موسیقی کے میدان میں ایک منفرد مقام قائم کیا۔ ان کی خدمات کے باعث انہیں عالمی سطح پر بھی غیر معمولی شناخت حاصل ہوئی۔ اپنے تعزیتی پیغام میں سنیترہ اجیت پوار نے مرحومہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ اور بے شمار چاہنے والوں کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

NCP Urdu News 12 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading