سون بھدر: اتر پردیش کے سون بھدر میں زمین کے تنازعہ میں دو فریقین میں زبردست خونیں تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے چلی تابڑ توڑ فائرنگ میں تقریباً 9 افراد کی جان چلی گئی، جبکہ تقریباً 20 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ ہلاک شدگان میں 4 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں۔
Sonbhadra: Casualties reported after firing between two groups over a land dispute in Ghorawal today; District Magistrate Ankit Kumar Agarwal says, "We can't tell exact numbers as of now. 9 persons brought to District Hospital. Some are injured & some are dead." pic.twitter.com/QDeL1QylFK
— ANI UP (@ANINewsUP) July 17, 2019
پولس کے مطابق یہ حادثہ موریہ گاؤں کے پردھان اور مقامی لوگوں کے درمیان ہوا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولس ذرائع کے مطابق واقعہ کا اہم سبب زمین ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع کے سینئر پولس افسران موقع واردات پر پہنچ چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گھوراوال تھانہ کے اوبھا گاؤں میں دو فریقین کے درمیان کئی برسوں سے زمین کو لے کر تنازعہ چل رہا تھا۔ بدھ کی شام کو ایک فریق نے دوسرے فریق کے لوگوں کی لاٹھی ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ اس واقعہ سے تیش میں آئے دوسرے فریق کے لوگوں نے ہتھیار نکال کر تابڑ توڑ فائرنگ شروع کر دی، جس میں دونوں فریقین کے 9 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔ پردھان فریق اور گاؤں کے دوسرے فریق میں زمین کو لے کر رنجش چل رہی تھی۔ بدھ کو دونوں فریقین میں بحث شروع ہوئی جو بعد میں مسلح خونیں تصادم میں تبدیل ہو گئی۔
CM takes cognisance of the incident in Sonbhadra (firing b/w 2 groups over a land dispute) & expressed condolences to family of deceased; directed DM to provide immediate medical attention to injured. He also directed DGP to personally monitor the case & ensure effective action. pic.twitter.com/qfG1tk7XP4
— ANI UP (@ANINewsUP) July 17, 2019
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس خونیں تصادم پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علاوہ ازیں زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتر پردیش کے ڈی جی پی (ڈائریٹر جنرل آف پولس) کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملہ پر ذاتی طور سے نظر رکھیں اور واقعہ کی جانچ کرائیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
