سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کے اشارے؟ سرمایہ کاروں کے لیے آخری موقع

مہاشیو راتری کے موقع پر سونے اور چاندی کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ مسلسل دو دن کی گراوٹ کے بعد سونے کی قیمت میں ایک دن اضافہ دیکھا گیا، تاہم آج سونے کے داموں میں اتار چڑھاؤ رک گیا ہے۔ اس سے قبل قومی دارالحکومت نئی دہلی میں 24 قیراط سونے کی قیمت فی 10 گرام 1850 روپے اور 22 قیراط سونے کی قیمت میں مسلسل تین دنوں کے دوران 1700 روپے کی کمی درج کی گئی تھی۔

چاندی کی قیمتیں بھی آج مستحکم رہیں، اگرچہ اس سے پہلے مسلسل دو دن تک فی کلو چاندی کے داموں میں مجموعی طور پر 20 ہزار روپے کی کمی ہوئی تھی۔

ملک کے بڑے شہروں میں سونے کی قیمتیں (فی 10 گرام)

ملک کے 10 بڑے شہروں میں سونے کے نرخ درج ذیل ہیں:

چنئی میں سونا سب سے مہنگا ہے۔ یہاں 24 قیراط سونا ₹1,58,840، 22 قیراط ₹1,45,600 اور 18 قیراط ₹1,24,500 میں فروخت ہو رہا ہے۔

نئی دہلی، لکھنؤ اور جے پور میں 24 قیراط سونا ₹1,57,900 اور 22 قیراط ₹1,44,750 ہے۔

ممبئی، کولکاتا، بنگلورو اور حیدرآباد میں 24 قیراط سونا ₹1,57,750 جبکہ 22 قیراط ₹1,44,600 میں دستیاب ہے۔

پٹنہ اور احمد آباد میں 24 قیراط سونا ₹1,57,800 اور 22 قیراط ₹1,44,650 درج کیا گیا ہے۔

چاندی کی قیمت

15 فروری کو نئی دہلی میں چاندی کی قیمت 2,75,000 روپے فی کلو برقرار رہی۔ ممبئی اور کولکاتا میں بھی یہی نرخ دیکھنے کو ملے۔ جبکہ چنئی میں ایک کلو چاندی کی قیمت 2.80 لاکھ روپے ہے، جو چاروں بڑے شہروں میں سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ عالمی جنگوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

چاندی کی عالمی صورتحال

تجزیہ کار نوینیت کے مطابق چاندی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ تبھی ممکن ہے جب عالمی منڈی میں اس کی قیمت 100 ڈالر فی اونس سے اوپر جائے۔ ان کے مطابق سازگار حالات میں قیمت 95 ڈالر فی اونس اور کمزور حالات میں 65 ڈالر فی اونس تک رہ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاندی کی طلب کا انحصار شمسی توانائی کے شعبے اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق صنعتی استعمال پر ہے، تاہم قیمتوں کی اصل سمت امریکی ڈالر کی حرکت پر منحصر ہوگی۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

بروکریج فرم MK Wealth Management نے اپنے نیویگیٹر ماہنامہ میں کہا ہے کہ سونے اور چاندی کی موجودہ تیزی کا رجحان آئندہ 3 سے 5 سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

ادارے نے موجودہ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مندی کے دوران بتدریج اپنی سرمایہ کاری بڑھائیں۔ تاہم اگر پورٹ فولیو میں سونے اور چاندی کا مجموعی حصہ کل اثاثوں کے 25 سے 30 فیصد سے زیادہ ہو تو اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

نئے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مرحلہ وار سرمایہ کاری کریں اور اپنے کل پورٹ فولیو کا تقریباً 5 سے 10 فیصد حصہ سونے اور چاندی کے لیے مختص رکھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ استحکام مستقبل میں ممکنہ اضافے کا اشارہ ہو سکتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading