سوشل میڈیا کی اہمیت پر کانگریس سوشل میڈیا سیل کی پریس کانفرنس

مالیگاؤں : (پریس ریلیز) رفتار زمانہ کیساتھ فیس بک،ٹیلی گرام،انسٹاگرام،ٹیوٹر اکاؤنٹ،یوٹیوب،انٹر نیٹ، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے سوشل میڈیا نے اپنی اہمیت کو منوایا ہے اور اسکولوں کالجوں سے لیکر ملی اور سماجی تنظیموں کے علاوہ سیاسی پارٹیوں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا لیکن مالیگاؤں شہر میں سوشل میڈیا کے ذریعہ کچھ سیاسی گرگے عصبیت پرستی،برادری واد،مفاد پرستی،ذاتیات اور نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کا حربہ استعمال کیا ہے اور وہ لوگ جنہیں اس شہر کی عوام نے اقتدار دیا،سوشل میڈیا کی اہمیت کو بھول کر شہر میں جھوٹ اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیکر اسمبلی کی کامیابیوں کا خواب دیکھ رہے ہیں.

کانگریس پارٹی کے مقامی صدر شیخ رشید صاحب مالیگاؤں کی سیاست کے نباض ہیں انہوں نے حزب اختلاف کے مقصد کو بھانپ لیا تھا اسلئے وہ ہمیشہ سوشل میڈیا پر ہونیوالی بحث کو بند کرنے اور سوشل میڈیا کے استعمال کی مخالفت کرتے رہے لیکن کانگریس پارٹی کے نوجوان ساتھی حزب اختلاف کے بیہودہ سوالوں اور بے بنیاد الزامات کا جواب سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی دینے کے حامی تھے

متحدہ محاذ کی جانب سے ہمیشہ کانگریس لیڈران کی ذاتیات پر حملہ،انہیں ان پڑھ، جاہل، گنوار، بدعنوان ،چور اور نہ جانے کیسے کیسے الزامات لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کانگریس کے ورکروں پر ذاتیات میں پہل کرنے کے الزام لگاتے رہے
حالانکہ مالیگاؤں شہر کی عوام اس بات سے بخوبی واقف ہیکہ نیاپورہ میں یوسف اسحٰق عبداللہ کے فرزند وقار یوسف کی آفس میں ایک کند ذہن شخص کو پچاس روپیوں کا لالچ دیکر مرحوم نہال احمد کی حیاتی میں سابق ایم ایل اے نہال احمد اور شیخ رشید صاحب کی میت کا پکارا مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے کروایا،اور سوشل میڈیا کے ذریعہ وائرل کیا گیا.

جب بھی کانگریس پارٹی کی جانب سے مالیگاؤں شہر میں کسی تعمیری کام کے آغاز کی خبریں سوشل میڈیا پر گشت کرتی ہیں مفتی اسماعیل کے عقیدت مند اور متحدہ محاذ کے گرگے خوردبین لگا کر اس کام میں بدعنوانی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں آج تک ایک بھی بدعنوانی ڈھونڈ نہیں سکے لیکن سوشل میڈیا پر یکے بعد دیگرے اتنی بیہودہ پوسٹیں سینڈ کی جاتی ہیں اور جھوٹ اتنی شدت سے بولا جاتا ہیکہ مانو سچ کا گمان ہونے لگے
اپنے ذاتی مفاد کیلئے مفتی اسماعیل قاسمی نے شیخ رشید خانوادہ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی بعض موقع پر تو انہیں مذہب سے ہی خارج کرنے جیسی پوسٹیں چلوائیں کارپوریشن الیکشن کے بعد اہلیان شہر نے تعمیری کاموں کی بنیاد پر کانگریس کو سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے روپ میں اکثریت سے نوازا اور عوام کے ایک طبقے نے شہر کی تعمیروترقی کے پیش نظر کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کو مل کر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کرنا شروع کئے اس وقت مفتی اسماعیل کے خود ساختہ فدائین اور عقیدت مندوں نے فیک آئی ڈی کے ذریعہ سوشل میڈیا پر پیغام بھیجا کہ شیو سینا، بی جے پی،ایم آئی ایم،آر ایس ایس حتیٰ کہ یہودی بھی چلیگا لیکن کانگریس پارٹی کیساتھ گٹھ جوڑ یا پیکٹ ہرگز نہیں کیا جائیگا.

جس وقت رکن اسمبلی آصف شیخ رشید کے چچا اور شیخ رشید کے چھوٹے بھائی شیخ خلیل پر نامعلوم غنڈوں نے گولی چلائی اسوقت بھی متحدہ محاذ میڈیا سیل کی جانب سے ایک پوسٹ چلائی گئی اور گولی چلانے والے کو دعا دی گئی کہ جس طرح شیخ خلیل پر گولی چلائی ہے اسی طرح شیخ رشید کو بھی جان سے مارنے کآ حوصلہ دینا
ان سب کے باوجود اپنے آپ کو عالم دین،مفتی اور پارسہ بتلاکر عوام سے جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے.

ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے اور کانگریس پارٹی کے سوشل میڈیا گروپ کا کوئی قصور نہ ہوتے ہوئے بھی ان پر مسلسل الزامات کی بوچھار،متحدہ محاذ میڈیا سیل کی للکار،ذاتیات کی بیخ کنی،عصبیت پرستی اور مفاد پرستی کے بڑھاوے کیساتھ ہی کانگریس پارٹی کے ورکروں کو پگارو بول کر ان کی تضحیک کی کوشش کرتے رہے
متحدہ محاذ میڈیا سیل کی جانب سے ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے کانگریس لیڈران اور کانگریس ورکروں کی ذاتیات پر پوسٹ بناکر انہیں بدنام کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے لیکن جب کانگریس پارٹی کے جیالے ورکر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں یا پلٹ وار کرتے ہیں تو کانگریس ورکروں کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ نکال کر انہیں مزید بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کبھی کانگریس لیڈر شیخ رشید کی تصویروں کیساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے،کبھی آصف شیخ رشید کو جاہل،گنوار،انگوٹھے چھاپ،دوسری ناپاس ،جرسی آمدار،اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا جاتا ہے تو کبھی کانگریس کے جیالے ورکر ریاض علی کی تصویروں کو لڑکی کے لباس میں ملبوس کرکے انہیں ڈانس کرتا ہوا دکھانے کی کوشش ہوتی ہے تو کبھی کسی شادی کے ویڈیو کی شوٹنگ کو واٹس ایپ کی زینت بناکر ریا ض علی،شیخ نثار راشن والے اور رفیق بھوریا کی ذاتیات پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے،کبھی امتیازکمال، جمشید پترا والا،اشفاق کلیم،ابراہیم انقلابی،فہیم بادشاہ، اسماعیل جمالی اور دیگر افراد پر لعن طعن کرکے عوام کو گمراہ کرنے کا کام کیا جاتا ہے
متحدہ محاذ سیل کی جانب سے مفتی اسماعیل کی تصویروں کو مولانا طارق جمیل،مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا ارشد مدنی،رجب طیب اردگان،اسدالدین اویسی کیساتھ جوڑ کر ان کا مرتبہ بلند بتلانے کی کوشش ہوتی ہے تو کبھی مفتی اسماعیل کے پیچھے مولانا ارشد مدنی اور دیگر علمائے کرام کے نماز پڑھنے والی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر مفتی اسماعیل کو مولانا ارشد مدنی سے بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
جب سوشل میڈیا پر ذاتیات،انا پرستی، عصبیت ،برادری واد اور سیاسی عداوت اپنے عروج پر پہونچنے لگی تب جمشید پترا والا نے مصالحت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی ایک میٹنگ لیکر ان ہنگاموں کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور مفتی اسماعیل کے فرزند عبداللہ اور شیخ رشید صاحب کے فرزند حاجی خالد شیخ رشید سے گفتگو کرنے اور کانگریس اور متحدہ محاذ سوشل میڈیا کے کارندوں کی مشترکہ میٹنگ کے بعد عصبیت اور ذاتیات کے یکسر خاتمہ کرنے کے سلسلے میں ازخود پہل کرتے ہوئے مفتی اسماعیل قاسمی سے موبائیل کے ذریعہ مشورہ کرنا چاہا تب مفتی اسماعیل نے جمشید پتراوالا کے خلوص کو نہ دیکھتے ہوئے جس لہجے میں جمشید سے بات کی اور جس طرح پس منظر اور بیک گراؤنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ آفیسران کا خوف دلاکر ٹانگنے کی دھمکی دی جمشید پترا والا سے ہوئی گفتگو کا آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہر کو بھی علم ہوگیا کہ ذاتیات اور عصبیت پرستی کی پہل کون کرتا ہے
ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے اور پارلیمینٹ اور اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سوشل میڈیا کی اہمیت اور کانگریس کی پالیسیوں،تعمیری کاموں کی تشہیر،اور عوامی رابطے کو مضبوط و مستحکم کرنے کی غرض سے کانگریس لیڈر و مقامی صدر شیخ رشید صاحب نے کانگریس ترجمان کو اضافی ذمہ داری سونپتے ہوئے کانگریس سوشل میڈیا کا انچارج بھی نامزد کیا اور سوشل میڈیا کی اہمیت کو فروغ دینے اور آپسی رنجش کو ختم کرنے میں پہل کی ہے
آئندہ ہونے والے اسمبلی اور پارلیمینٹ انتخابات کے دوران مالیگاؤں شہر(ضلع)کانگریس پارٹی جناب شیخ رشید صاحب،رکن اسمبلی آصف شیخ رشید صاحب اور کانگریس پارٹی کے نوجوان دلوں کی دھڑکن حاجی خالد شیخ رشید کی نگرانی و سرپرستی میں سوشل میڈیا کا استعمال خالص تعمیری جذبے اور مثبت سوچ وفکر کیساتھ کرے اس مقصد کے تحت سوشل میڈیا ٹیم تیار کی گئی ہے ساتھ ہی اہلیان شہر کے روبرو اس بات کو بھی واضح کرنا ہیکہ عوام اپنے ماتھے کی آنکھ سے دیکھ لیں کہ ذاتیات پر حملہ، مفاد پرستی، عصبیت اور نفرت کی سیاست کون کرتا ہے اور شہر کی تعمیر وترقی کی بجائے تخریب کاری کی سیاست کہاں سے شروع ہوتی ہیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading