سمینار بعنوان ”دکن کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری“ کا کامیاب انعقاد

محمدتقی ‘ایڈوکیٹ بہاءالدین‘ عبدالملک نظامی نے مقالہ پڑھا‘ ایوارڈ یافتگان کو بھی تہنیت پیش

ناندیڑ :17ستمبر(ور ق تازہ نیوز) فروغِ اردو فورم ناندیڑ اور ادارہ روزنامہ ورقِِ تازہ، ناندیڑ کے اشتراک سے آج 17 ستمبر کو صبح گیارہ بجے دفتر جماعت اسلامی ہند ‘نئی آبادی ناندیڑمیں جلسہ تہنیت، سمینار اور رسمِ اجراء تقریب کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ۔اس موقع پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکاڈےمی اور حکومت مہاراشٹر کے محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ ‘ ممبئی کی جانب سے ایوارڈ یافتگان کو تہنیت پیش کی گئی۔

سمینار بعنوان ”دکن کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری“منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی نے کی ۔جناب محمد تقی صاحب(مدیراعلیٰ روزنامہ” ورقِ تازہ“ ناندیڑ)نے” سقوط حیدرآباد‘دکنی اور کشمیری مسلمان“ پر اپنامقالہ پڑھا ۔ اورکہا کہ ریاست حیدر آباد کی بنیاد میر قمرالدین علی خاں آصف جاہ اول نے ڈالی تھی ۔ اور آخری بادشاہ میر عثمان علی خان بہادر آصف جاہ سابع تھے ۔ آصف جاہ سابع کادور اقتدار 15اپریل 1886تا17 ستمبر 1947 پر محیط ہے ۔ ان کے 61سالہ دور کو زرین عہد اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس عرصہ میںریاست نے تعلیمی معاشی ‘ثقافتی شعبہ میں کافی ترقی کی۔میرعثمان علی خاںبہادر انصاف پسند اور رعایا پرور بادشاہ تھے ۔ انھوں نے مسلمانوں اور ہندوﺅ ں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا ۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میری ایک آنکھ ہندو ہیں تو دوسری مسلماں ہیں ۔

آصف جاہی دور کے 224سالوں میں ریاست میں کبھی بھی فرقہ پرستی کو پنپنے کاموقع نہیں ملا ۔انھوں نے مزید کہاکہ اس کے برعکس جموں کشمیر کے مسلمان تقریبا ہر شعبہ میں دکن کے مسلمانوں سے پچھڑے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کےلئے پاکستان اور خود کشمیری مسلمانوں کی سوچ ذمہ دار ہے ایسا کہاجائے تو بے جانہ ہوگا ۔جس طرح سقوط حیدر آباد کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے خو د کو بھارت کے اہم قومی دھارے میںشامل کرلیا تھا اگر اسی طرح کشمیری مسلمان بھی علاحدگی پسندی کا رجحان ترک کرکے ہندوستان کے امن پسند شہری ہونے کاثبوت دیتے توشاید آج بھارت کی بی جے پی حکومت کو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔اور نہ ہی کشمیریوں کواپنے ہزاروں نوجوانوں کی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ۔ غلط سوچ اورفیصلے نے انھیں حیدرآباد دکن کے مسلمانوں سے کئی دہائیاں پیچھے چھوڑدیا ہے ۔

ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین صاحب نے اپنے مقالہ پڑھتے ہوئے کہاکہ دکن کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری پرتفصیلی روشنی ڈالنے کیلئے سمینارکا یہ مختصر وقفہ نا کافی ہے۔کیونکہ دکن کے حکمرانوں کی مذہبی رواداری کے واقعات طویل ہے ۔ میر عثمان علی خاں نے اپنی حکومت کوباوقار طریقہ سے حکومت ہند میں الحاق کیاتھا۔

ایڈوکیٹ بہاءالدین کے بعدعبدالملک نظامی صاحب(مدرس)نے اپنے مقالہ میں حضور نظام کی مذہبی رواداری کاتفصیلی جائزہ لیا اورسکھوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے تنازعہ کی یکسوئی کیلئے میر عثمان علی خان ناندیڑ کے گرودوارہ کادورہ بھی کرچکے ہیں ۔ اس سمینار کے بعد دوسرے سیشن میں تہنیتی تقریب کاانعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت محمدتقی مدیراعلیٰ ورق تازہ نے کی ۔مہمانان خصوصی کی حیثیت سے جناب کمال الدین صدیقی ساجد(ماہرتعلیم)‘جناب غفار راہی( رکن جماعت اسلامی ہندناندیڑ)‘ جناب ڈاکٹر خلیل صدیقی قاضی (مدیر ماہنامہ ’تعلیمی سفر“لاتور)شریک تھے۔اس موقع پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے ایوارڈیافتگان ایڈوکیٹ محمد بہاوالدین صاحب۔‘جناب شبیر پٹیل صاحب‘ ڈاکٹر محمد عبدالرافع صاحب اور جولائی 2019ءمیں حکومت مہاراشٹر کے محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کی جانب سے دئےے گئے ریاستی سطح کے مولانا ابوالکلام آزادصحافتی ایوارڈ یافتہ محمدنقی شاداب (مدیرورق تازہ ناندیڑ) کی شال و گلپوشی کی گئی ۔

آخر میں ماہنامہ ’تعلیمی سفر“کے گوشہ ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی “کارسم اجراءعمل میں آیا ۔پروگرام کے ابتداءمیں فروغِ اردو فورم، ناندیڑ کے صدر ڈاکٹرارشاد احمدخاںنے فورم کے اغراض و مقاصد پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔اس تقریب کی نظامت کے فرائض محمدعلیم اسرار(معلم) نے بحسن و خوبی انجام دئےے جبکہ فورم کے نائب صدرڈاکٹرعبدالرافع نے آخر میںشکریہ اداکیا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading