ممبئی:5نومبر(ورق تازہ نیوز)سمجھوتہ ایکسپریس بم ھماکہ معالے کے کلیدی ملزم سوامی اسیمانند و دیگر کے خصوصی این آئی ائے عدالت کی جانب سے باعزت بری کیئے جانے والے فیصلہ کو بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے 19 اپریل2019 کو چندی گڑھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر گذشتہ کل چندی گڑھ ہائیکورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کا ریکارڈ طلب کرتے ہو ئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔
یہ اطلا ع آج یہاں ممبئی میں جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی۔انہو ںنے مزید بتایا کہ بھگوا ملزمین کے خلاف داخل کریمنل اپیل جس کاڈائری نمبر 2525445/2019 ہے صدر جمعیة علما ءہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیة علماءمہارا شٹرنے بم دھماکوں کے متاثرین کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل کیا ہے جس پر کل چندی گڑھ ہائی کورٹ کے جسٹس جسونت سنگھ نے کارروائی کرتے ہو ئے نچلی عدالت کا ریکارڈ طلب کیا ہے تاکہ اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرنے سے قبل عدالت اس کا معائنہ کرسکے ۔
جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ نریندر پال بھردواج اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے عدالت کو بتایاکہ قومی تفتیشی ایجنسی نے ملزمین کو مبینہ فائدہ پہنچانے کے لیئے موثر طریقہ سے عدالت کے سامنے ثبوت و شواہد پیش نہیں کیئے جس کے نتیجہ میں ٹرائل کورٹ کو ملزمین کو بری کرنا پڑانیز خصوصی این آئی اے جج نے بھی فیصلہ لکھنے میں غلطی کی ہے جس پر ہائی کورٹ کو نظر ثانی کرنا چاہئے۔ وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والے تقریباً تمام سرکاری گواہ منحرف ہوگئے کیونکہ استغاثہ نے ان کی حفاظت نہیں کی اور انہیں اعتماد میں نہیں رکھا جس کی وجہ سے وہ ملزمین کے دباﺅ میں دوران گواہی عدالت میں اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے۔
وکلاءنے عدالت کو بتایا خصوصی این آئی اے عدالت نے مجسٹریٹ کے روبرو دیئے گئے اقبالیہ بیانات کو خارج کردیا حالانکہ عدالت ملزمین کو صرف اقبالیہ بیانات کی بنیاد پر ہی سزا دے سکتی تھی کیونکہ ملزمین کا اقبالیہ بیان خصوصاً سوامی اسیمانند کا اقبالیہ بیان عین قانون کے مطابق لیا گیا تھا جس میں اس نے بم دھماکوں کو انجام دینے کااقرار کیا تھانیز انحراف شدہ اقبالیہ بیان کی بھی قانونی حیثیت ہوتی ہے لیکن عدالت نے اس پر دھیان نہیں دیا اور اقبالیہ بیان کو سرے سے خارج کردیا جس پر ہائی کورٹ کو نظر ثانی کرنا چاہئے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ بھگوا ملزمین کے خلاف داخل اپیل میں تحریر کیا گیا ہیکہ ، خصوصی این آئی اے عدالت کو فیصلہ دباﺅ میں دیا گیا فیصلہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ عدالت نے ایسے متعدد ثبوتوں کو خارج کردیا جسے وہ بآسانی قبول کرتے ہوئے ملزمین کو سزا دے سکتی تھی نیز خصوصی جج نے بجائے اپنے ”عدالتی ذہین“ جوڈیشیل مائنڈ استعمال کرنے کے ملزمین کے حق میں فیصلہ سنا دیا جو بم دھماکوں کے متاثرین کے ساتھ بھونڈا مزاق ہے ۔ واضح رہے کہ18 فروری2007ءکو دہلی ۔لاہور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں پانی پت کے قریب 2 بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک درجن سے زائد مسافر زخمی ہوئے تھے۔بم دھماکوں کے بعد چار ملزمین سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجندر چودھری کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا جو پنچکولہ کی خصوصی این آئی اے عدالت میں چل رہا تھاجہاں چار ملزمین کو عدالت نے مقدمہ سے باعزت بری کردیاتھا۔