ناندیڑ (راست):مدینۃ العلوم ناندیڑ کے سابق صدرِ مدرس الحاج محمد زین الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علمی، دینی اور رفاہی خدمات کو شہر کے علمی و دینی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی یادیں اہلِ علم و طلبہ کے دلوں میں زندہ ہیں۔
زین الدین صاحب نے کئی دہائیوں تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہ کر طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی۔ ان کی قیادت میں مدینۃ العلوم ناندیڑ نے علمی ترقی کی کئی منازل طے کیں۔ ان کا اندازِ تدریس سادہ مگر دلنشین ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ طلبہ کی فکری، دینی اور اخلاقی تربیت پر زور دیتے رہے۔
علمی میدان کے ساتھ ساتھ دینی خدمات میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی عام کرنے، مساجد و مدارس کے قیام اور دعوت و تبلیغ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کے دروس اور بیانات نہ صرف علمی ہوتے بلکہ روحانی سکون کا ذریعہ بھی بنتے۔
ان کی زندگی کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا رفاہی و فلاحی جذبہ تھا۔ مستحق طلبہ کی کفالت، یتیموں کی مدد، بیواؤں کی اعانت اور غرباء کو راشن کی فراہمی جیسے کام وہ خاموشی سے انجام دیتے رہے۔ رمضان، عید اور دیگر مواقع پر ان کا گھر خیرات و صدقات کا مرکز بن جاتا۔
شہر کے کئی معززین، اساتذہ، علما اور سابق طلبہ نے ان کی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
"زین الدین صاحب کی شخصیت علم، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ایک عہد ساز استاد تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔”ان کی یاد میں ایک تعزیتی جلسے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں ان کے تلامذہ اور ادارے سے جڑے افراد نے شرکت کی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
ان کی زندگی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین۔ اس طرح کا پریس نوٹ نویدِ احمد قریشی معلم قریشیه ہائی اسکول ناندیڑ نے جاری کیا ہے ۔