الہ آباد ہائی کورٹ کی نکاح، حلالہ اور تین طلاق پر سخت ریمارکس، "ان رسموں کی آڑ میں خواتین کا جنسی استحصال قبول نہیں

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے نکاحِ حلالہ، تین طلاق اور اس سے متعلق بعض مذہبی رسموں پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان روایات کی آڑ میں خواتین کے جنسی استحصال کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ ایسی رسمیں معاشرے کے لیے "سیاہ باب” ہیں اور یہ آئینی اقدار، مساوات اور انسانی وقار کے سراسر خلاف ہیں۔ عدالت کے مطابق ایسے اعمال صرف قانونی جرم ہی نہیں بلکہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے سنگین واقعات ہیں۔

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل بنچ نے متاثرہ لڑکی کے سابق شوہر، چچا، ایک مولانا اور دیگر ملزمان کی عرضیاں مسترد کر دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ذاتی قوانین (پرسنل لا) کی آڑ میں جرائم کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر اس بات کو تسلیم کیا کہ نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزامات انتہائی سنگین ہیں اور معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

یہ معاملہ اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے سید نگر (سیدن گلی) علاقے کا ہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ کم عمری میں اس کا نکاح کرایا گیا، پھر اسے تین طلاق دی گئی، اس کے بعد نکاحِ حلالہ کے نام پر اس کا جنسی استحصال کیا گیا اور دوبارہ اسی شخص سے نکاح کرا دیا گیا۔

ملزمان نے ایف آئی آر منسوخ کرنے اور گرفتاری پر روک لگانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے ان کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے حقائق نہایت سنگین ہیں۔ ابتدائی شواہد سے تمام ملزمان کا کردار قانون کے خلاف دکھائی دیتا ہے، اس لیے تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ایف آئی آر ختم کرنے کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔

"حلالہ کے نام پر زیادتی”

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الزامات سے بظاہر ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے نابالغ ہونے کے دوران اس کے ساتھ زیادتی کی گئی، بعد ازاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی بھی ہوئی، جسے نکاحِ حلالہ کے نام پر چھپانے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ ان تمام الزامات کی گہرائی سے تحقیقات ہونا ناگزیر ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

ایف آئی آر کے مطابق اپریل 2015 میں، جب متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 15 سال تھی، اسے مرکزی ملزم اظہر نواز سے نکاح کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جنوری 2016 میں ملزم نے اسے تین طلاق دے دی۔ چند ماہ بعد جب اظہر نواز نے دوبارہ اسی خاتون سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو نومبر 2016 میں اس کا نکاحِ حلالہ شریک ملزم مولانا قیوم سے کرایا گیا۔

اس وقت متاثرہ کی عمر صرف 16 سال تھی۔ مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں متاثرہ نے کہا کہ اسے اس وقت نکاحِ حلالہ کا مطلب بھی معلوم نہیں تھا اور اس کے ساتھ زبردستی زیادتی کی گئی۔ بعد ازاں 2017 میں اس کا دوبارہ اظہر نواز سے نکاح کرایا گیا، لیکن تقریباً چار سال بعد ملزم نے اسے دوبارہ طلاق دے کر دوسری خاتون سے شادی کر لی۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کو ٹی وی نیوز بلیٹن کے انداز، مختصر ویب نیوز یا یوٹیوب وائس اوور اسکرپٹ کی شکل میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading