سماجوادی پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ اور زور آور لیڈر عتیق احمد کے کئی ٹھکانوں پر آج صبح سی بی آئی نے چھاپہ ماری کی۔ خبروں کے مطابق پریاگ راج اور لکھنؤ سمیت 6 مقامات پر سی بی آئی نے چھاپہ مارے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے موصولہ خبروں کے مطابق سی بی آئی نے جن مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے ان میں عتیق احمد کے علاوہ کچھ دیگر لوگوں کے ٹھکانے بھی شامل ہیں۔
Central Bureau of Investigation is conducting searches at 6 locations including Lucknow & Prayagraj at the premises of former Samajwadi Party MP, Atiq Ahmed and others, in an ongoing investigation of a case related to alleged incident of abduction and assaulting of a businessman. pic.twitter.com/O9eqdOBCfh
— ANI UP (@ANINewsUP) July 17, 2019
سٹی ایس پی برجیش کمار شریواستو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس چھاپہ ماری کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج صبح سی بی آئی کی ٹیم نے عتیق احمد کے گھر اور دفتر کے احاطہ میں چھاپہ ماری کی۔‘‘ عتیق احمد کے وکیل نے بھی چھاپہ ماری کی خبروں کو درست بتایا ہے اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’صبح 7.30 بجے سے سی بی آئی کی ٹیم عتیق احمد کے گھر پر موجود ہے۔ سیکورٹی فورسز نے رہائش کو پوری طرح سے گھیر رکھا ہے۔ گھر کے اندر کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘‘
Lawyer of former Samajwadi Party MP Atiq Ahmed: At 7:30 am, security force arrived at his residence. A team of CBI is also present. The premises has been sealed, no one from outside is being allowed to go in. We don't have detailed information yet. pic.twitter.com/fL2T08XYGY
— ANI UP (@ANINewsUP) July 17, 2019
دراصل سی بی آئی کی ٹیم نے دسمبر 2018 میں سماجوادی پارٹی لیڈر عتیق احمد اور دیگر 17 لوگوں کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ کیس کا تعلق رئیل اسٹیٹ ڈیلر موہت جیسوال سے تھا کیونکہ موہت نے عتیق احمد اور ان کے ساتھیوں پر اغوا اور مار پیٹ کا الزام عائد کیا تھا۔ موہت جیسوال کے اغوا اور جبراً وصولی معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اتر پردیش کی یوگی حکومت نے عتیق احمد کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کرائی۔
عتیق احمد پر الزام ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر کاروباری موہت جیسوال سمیت کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ جیل میں مار پیٹ کی اور جبراً وصولی کی کوشش کی۔ جیسوال نے الزام لگایا کہ عتیق احمد نے ان کا لکھنؤ سے اغوا کرایا جس کے بعد انھیں جبراً دیوریا جیل میں عتیق احمد کی بیرک میں لے جایا گیا اور ان کی چالیس کروڑ روپے کی چار کمپنیوں کا مالکانہ حق عتیق احمد کے حوالے کرنے کے لیے کہا گیا۔ جیسوال کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے ایسا کرنے سے منع کر دیا تو عتیق اور ان کے ساتھیوں نے دھمکایا۔ ان سب واقعات کے پیش نظر ہی سپریم کورٹ نے سخت سیکورٹی میں عتیق احمد کو گجرات کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
