ریاست میں پردھان منتری مدرا یوجنا کی ناکامی: سچن ساونت

۹۱فیصد نوجوانوں کو فی کس صرف ۲۳ہزار روپئے کا قرض، حکومت کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی

ممبئی: بی جے پی حکومت نے نہایت شورشرابے کے ساتھ پردھان منتری مدرا یوجنا کی شروعات کی تھی جس کی ناکامی ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ مہاراشٹر میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں  حکومت کے ذریعے مختلف وعدوں کے ذریعے  عوام کو بے وقوف بنانے کا اگلاباب یہ یوجنا ہےجس کے تحت حکومت نے ریاست کے بیروزگار نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ بی جے پی حکومت پر یہ سنسنی خیز الزام  آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے مدرا یوجنا کتنی کامیاب ہوئی ہے، اس کا جائزہ مسلسل لیا جارہا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق ۱؍کروڑ ۱۹؍لاکھ نوجوانوں کو کل ۵۹ ہزار۷۴۶کروڑ روپئے کا قرض اس یوجنا کے تحت دیا گیا ہے۔ مدرا یوجنا کے تحت ’شیشو‘ (چائیلڈ) کٹیگری کے لئے ۵۰ ہزار روپئے تک قرض دیا جاتا ہے۔ ’کِشور‘(بالغ) کٹیگری کے لئے ۵۰ ہزار سے ۵لاکھ روپئے تک قرض دیا جاتا ہے جبکہ ’ترون‘ (نوجوان) کٹیگری کے لئے ۵لاکھ روپئے سے ۱۰؍لاکھ روپئے تک قرض دینے کی پالیسی ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۸ تک حکومت اپنے چارسالہ دور مکمل کرنے تک، مدرا یوجنا کی ویب سائیٹ پر پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق ۱؍کروڑ،۲۳لاکھ ۳۶ہزار۹۱۷ لوگو ں کو قرض دیا ہے۔ لیکن اس میں ۱؍کروڑ ۱۲؍لاکھ۷ہزار۲۵۸ لوگوں کو یعنی  ۹۰.۸۴ فیصد لوگوں کو شیشو کٹیگری میں قرض دیا ہے جس کی رقم تقریباً ۲۳ہزار ۳۰ روپئے ہے۔ اتنی معمولی رقم میں چائے کا اسٹال یا پکوڑے بیچنے کی اسٹال تک شروع نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی طرح صرف ۷.۱۷ فیصد لوگوں کو ۲لاکھ۱۰؍ہزار۷۳۶ روپئے قرض دیا گیا ہے۔ ۲لاکھ روپئے میں کون ساکاروبار شروع ہوسکتا ہے؟ حکومت نوجوانوں کو اس کی رہنمائی بھی کرے۔ سچن ساونت کے مطابق حکومت اپنے وعدوں کے مطابق نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے بڑے بڑے وعدے، گمراہ کن اشتہارات نیز جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے انہیں گمراہ کررہی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading