پریاگ راج:07ستمبر(یواین آئی) اجودھیا میں رام مندر تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سادھو سنتوں کی تنظم اکھاڑا پریشد اب وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجدپر دعویداری پیش کرتے ہوئے اس ضمن میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اکھاڑا پریشد کے چیف ترجمان نارائن گری مہاراج نے پیر کو یہاں مٹھ باگھمبری گدی میں تقریبا ڈھائی گھنٹے چلی میٹنگ کے بعد یہ جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں پریشد کے نمائندوں نے تجویز پیش کی ہے اجودھیا میں بابری مسجد۔ رام مندر متازع اراضی ملکیت معاملے کی طرز پر کاشی اور متھرا تنازع کو بھی سپریم کورٹ میں لے جائے گا۔
اکھاڑا پریشد کا دعوی ہے کہ شری کاشی وشوناتھ اور متھرا میں کرشن جنم بھومی مقام پر مغل حکمرانوں نے زبردستی مسجدوں کی تعمیر کرائی تھی۔ان کے دعوؤں کے مطابق وشوناتھ مندر کے بگل میں گیان ویاپی مسجد کے نزدیک کھدائی کے دوران سرنگ اور مندر کے کئی باقیات ملے رہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ان دونوں مقامات کے تنازع کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کے ذریعہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں معاملات کے سلسلے میں پریشد عدالت جائے گی اور ان دونوں تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی عدلت عظمی سے اپیل کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ‘ویشو بھدر پجاری پروہت مہا سنگھ’نے آئین ہند کے ‘دی پلیسس آف ورشپ(اسپیشل ایکٹ)1991 کو منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں پہلے سے ہی پٹیشن داخل کر رکھی ہے جس میں اس نے یونین آف انڈیا کو پارٹی بنایا ہے ۔
عرضی گذار نے آئین کے مذکورہ بالا خصوصی ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ آئین ہند کا یہ آرٹیکل ہندوؤں کی ان پرانی عبادت گاہوں کے احیاکے دعوی کی راہ میں مانع ہے جو مبینہ طور سے مسلم سلاطین کے ذریعہ مسلم عباد گاہوں میں تبدیل کر دی گئی تھیں(اس ضمن میں بظاہر ان کی بنیادی توجہ وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد کی طرف ہے)۔