اورنگ آباد۔24۔نومبر ۔(ورقِ تازہ نیوز جمعیتہ علماء مراٹھواڑہ نے وسیم رضوی کے ذریعہ لکھی جانے والی رام جنم بھومی پر اس کے بعض نہایت متنازع حصوں کی وجہ سے فوراً پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔گذشتہ ۱۹؍ نومبرکو اس فلم کا ٹریلر لانچ ہوا جس میں شیعہ سنی اختلافات کو بھڑکانے کے ساتھ بعض اسلامی قوانین اور محترم و مکرم اسلامی شخصیات کو مجروح کرنے کی نہایت مذموم کوشش کی گئی ہے۔جمعیتہ علماء مراٹھواڑہ صدر مفتی کلیم بیگ ندوی نے کہا کہ وسیم رضوی اپنا دماغی توازن کھوچکے ہیں اور انھوں نے سیاسی مفادات کی خاطر اپنے آپ کو فرقہ پرستوں کے حوالے کردیا ہے ، جس کی وجہ سے خود اہل ِ تشیع نے پہلے ہی انہیں اپنی جماعت سے بے دخل کردیا ہے،انھوں نے کہا کہ اس فلم کے ریلیز ہونے سے سماج میں نفرت پھیلے گی اور فرقہ پرست اسکا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔جمعیتہ علماء مراٹھواڑہ کے آرگنائزر محمد شعیب القاسمی نے کہا کہ جس طرح کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے اس پر سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہیئے اور اگر حکومت اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کرتی تو اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاجا ئے گا ، اس فلم کے ذریعہ ہندو اور مسلمانوں کو لڑانے کی ایک منظم سازش کی جارہی ہے ۔ بابری مسجد رام جنم بھومی کا تنازعہ عدالت میں زیرِ التوا ہے اور عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے دونوں فریقوں کے لیئے قابلِ قبول ہونا چاہیئے ۔ ٹریلر میں اسلامی ہستیوں کے متعلق جو غلط الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسی مذموم حرکتیں اور اس طرح کی فلموں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔حافظ مسعود نائب صدر جمعیتہ علماء مہاراشٹر نے کہا کہ موجودہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے،اور عنقریب منعقد ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر مذہبی انتہا پسندی کو بڑھاوا دیکر پھر سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ فرقہ پرست چاہے کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کرلے عوام اب ان کے دام فریب میں نہیں آنے والی، اور وسیم رضوی ان ہی فرقہ پرستوں کا آلۂ کار ہے جس کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ جنرل سیکریٹری جمعیتہ علماء مراٹھواڑہ مولانا عیسیٰ خان کاشفی نے مراٹھواڑہ کی تمام یونٹوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کے پولس اسٹیشنوں اور انتظامیہ کو میمورنڈم دیکر وسیم رضوی کی فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کریں۔