’’رام جنم بھومی ‘‘ نامی فلم کے پروڈیوسر وسیم رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لئے علمائے کرام کا وفد پھر پہونچا جے جے مارگ پولیس اسٹیشن !
ممبئی ۔ 01؍دسمبر 2018 (پریس ریلیز)
سنیچر کو بعد نماز مغرب رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری الحاج محمد سعید نوری صاحب کی قیادت میں علماء و دانشوروں کا ایک وفد جے جے مارگ پولیس اسٹیشن پہنچا۔
یہاں کے سینئر پولیس انسپکٹر گائیکواڑ سے ملاقات کی جس پر سینئر گائیکواڑ نے بتایا کہ ہم نے سینسر بورڈ کو بھی خط لکھ دیا ہے کہ بورڈ اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت نہ دے کیوں کہ متنازع فلم ملک کی فضاء کو خراب کر دے گی ۔
اس سے قبل رضا اکیڈمی کا ایک وفد سینسر بورڈ بھی گیا تھا جہاں پر بورڈ کے ذمہ داروں نے وفد کے اراکین کو بتایا تھا کہ رام جنم بھومی فلم کے لئے ابھی تک بورڈ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے ۔ جس پر خود رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری الحاج محمد سعید نوری نے احتجاجی بیان بھی جاری کیا تھا کہ بغیر سینسر بورڈ کے اجازت کے وسیم رضوی نے رام جنم بھومی نامی فلم ٹریلر کو یو ٹیوب پر کیسے ریلیز کردیا۔ یہ سینسر بورڈ کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی ہے ۔
لہٰذا سینسر بورڈ کر خود آگے بڑھ کر وسیم رضوی پر قانونی کارروائی کرنی چاہئے ۔ جے جے مارگ پولیس اسٹیشن میں سینئر سے گفتگو کے دوران موبائل پر ڈی سی پی زون کا فون آیا کہ کچھ لوگ دھرنے پر بیٹھے ہیں ۔ اس پر نوری صاحب نے بتایا کہ یہ خبر بالکل غلط ہے۔ اور پولیس کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔ ہم تو صرف وسیم رضوی اور اس کی متنازع فلم رام جنم بھومی پر آیف آئی آر درج کرانے کے لئے گئے تھے۔
الحاج محمد سعید نوری نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ہم بروز پیر بعد نماز عشاء ہانڈی والی مسجد سیفی جبلی اسٹریٹ پر علمائے کرام کی میٹنگ رکھ رہے ہیں ۔
تاکہ وسیم رضوی کے ذریعے پھیلائے جانے والی نفرت کی دیوار کر ختم کی جاسکے اور رام جنم بھومی فلم کے تعلق سے 6؍ دسمبر سے پہلے پہلے تبادلۂ خیال کرسکیں۔ یاد رہے اسی دن ڈی سی پی زون نے بھی علمائے کرام کو میٹنگ کے لئے مدعو کیا ہے ۔
وفد میں حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نوری ، حضرت مولانا اعجاز احمد کشمیری ہانڈی والی مسجد، سید سبحانی میاں صاحب پھول گلی ، حضرت قاری نظام الدین صاحب دارالعلوم فیضان مفتی اعظم، قاری عبد الرحمٰن ضیائی ، عرفان شیخ ، حسن رضوی ، ناظم بھائی رضوی، عبد الرزاق منصوری وغیرہ شامل تھے۔