نئی دہلی:(ایجنسیز)اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے ایک دن پہلے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ رافیل معاہدے سے جڑے دستاویز وزارت دفاع سے چوری ہوگئے ہیں۔ حالانکہ جمعہ کو اپنے بیان سے پلٹتے ہوئے وینو گوپال نے کہا کہ دستاویز چوری نہیں ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں کہنا چاہ رہے تھے کہ معاہدے کی جانچ کی مانگ کرنے والے عرضی گزاروں نے دستاویز کی فوٹو کاپی کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے دستاویز حکومت کے سکریٹ دستاویز تھے۔وینو گوپال نے پی ٹی آئی سے کہا، ‘مجھے بتایا گیا کہ اپوزیشن الزام لگا رہا ہے کہ میں نے سپریم کورٹ میں دلیل دی تھی کہ دستاویز وزارت دفاع سے چوری ہوگئے ہیں۔ یہ پوری طرح غلط ہے۔ یہ کہنا کہ دستاویز چوری ہوگئے تھے پوری طرح غلط ہے’۔معاملے میں سماعت کے دوران بدھ کو اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کورٹ میں کہا تھا کہ جن دستاویزوں پر وکیل پرشانت بھوشن بھروسہ کر رہے ہیں وہ وزارت دفاع سے چرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزارت دفاع سے چوری ہوئے دستاویز کا معاملہ اتنا سنجیدہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں کرمنل ایکشن لینے پر غور کر رہی ہے۔