ممبئی: رافیل معاملے میں یشونت سنہا، پرشانت بھوشن اور ارون شوری کے ذریعے داخل کی گئی نظرثانی کی درخواست کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا، لیکن اس معاملے میں عدالت کے مکمل فیصلے پر غور نہ کرتے ہوئے مودی سرکار کو ایک بار پھر کلین چیٹ دیئے جانے کی تصویر پیش کی جارہی ہے۔ جبکہ اگر سپریم کورٹ کا مکمل فیصلہ دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عدالت نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے سی بی آئی کے ذریعے اس کی تفتیش کرائے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس کی معلومات شکایت کنندگان کودیے جانے کی بات کہی ہے۔ یہ باتیں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہی ہیں، وہ جمعہ کے روز کانگریس کے دفتر گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 14 دسمبر 2018 کو فیصلہ دیتے ہوئے آئین کی دفعہ 23 کے تحت اس معاملے میں مداخلت یا تفتیش کے حد کی وضاحت کی تھی۔ گزشتہ کل کے فیصلے میں بھی انہیں باتوں کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ سپریم کورٹ میں للیتا کماری کے فیصلے کے مطابق اگر کسی سماجی خدمت گار کے خلاف کسی قابلِ مواخذہ جرم کی شکایت ہو تو اس کی ایف آئی آردرج کرتے ہوئے اس کی تفتیش کیا جانا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کوبنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیراگراف 86 میں یہ واضح طور پر درج کیا ہے کہ رافیل معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کے ذریعے کی جائے۔ 26 جولائی 2018 کو مودی حکومت نے بدعنوانی مخالف قانون کی دفعہ 17 اے میں ترمیم کرتے ہوئے سماجی خدمت گاروں کے خلاف تفتیش کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے منظوری لینے کو ضروری قرار دیا تھا۔ اس لئے سی بی آئی کو وزیراعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے منظوری لینی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس طرح کے معاملات کی تفتیش کرنے کے لئے سی بی آئی کسی حد کی پابندنہیں ہوگی۔
پرتھوی راج چوہان نے مزید کہا کہ رافیل بدعنوانی معاملے میں کانگریس پارٹی نے ابتدا سے ہی عدالتی تفتیش کے حدکو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس بدعنوانی کی تفتیش مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے تفتیش کے حد کی ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے یہ بات صاف کردی ہے کہ سی بی آئی کے ذریعے رافیل بدعنوانی کی باریک بینی سے تفتیش کی جاسکتی ہے۔ پرتھوی راج چوہان نے مطالبہ کیا کہ اگر رافیل خریداری معاملے میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے تو مودی حکومت سی بی آئی کو دفعہ 17 اے کے تحت منظوری دے یا کانگریس پارٹی کے واضح مطالبے کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کر اس کی تفتیش کرائے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
