کوالالمپور، 14 اگست (یو این آئی)ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وہ متنازعہ مسلم اسکالر ذاکر نائک کو اپنے ملک میں رکھنا نہیں چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی اور ملک اسے اپنے یہاں پناہ دینا چاہتا ہے تو ان کا خیر مقدم ہے۔ذاکر نائک نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ ملائشیا میں رہنے والے ہندو ملائشیائی وزیراعظم سے زیادہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر کے وفادار ہیں۔ان کے اس بیان کے بعد سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ذاکر نائیک کے حوالگی کے مطالبہ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مسٹر مہاتیر محمد نے بدھ کو کہا کہ ”اس لئے وہ یہاں ہیں۔ لیکن اگر کوئی ملک اسے اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے تو ان کا خیرمقدم ہے۔“برنما نیوز ایجنسی کے مطابق ذاکرنائیک کے ہندو والے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیراعظم نے کہا کہ ”اس کے بارے میں آپ ہندوو¿ں سے پوچھیں۔ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔ملائشیائی حکومت اب نائیک سے کافی ناراض ہے۔ فروغ انسانی وزیر ایم کلاسیگرن نے ہندوو¿ں پر سوال اٹھانے والے ذاکر نائیک پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مسٹر کلاسیگرن نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ذاکر نائیک ایک باہری شخص ہیں۔ وہ ایک بھگوڑا ہے اور اسے ملائشیائی تاریخ کے بارے میں بہت کم علم ہے، اس لئے اسے ملائشیائی لوگوں کو پست دکھانے جیسے خصوصی حق نہیں دیا جانا چاہئے۔“انہوں نےکہا ہے کہ ”ذاکر نائیک کا یہ بیان کسی بھی طرح سے ملائشیا کے مستقل شہری ہونے کے پیمانے پر کھرا نہیں اترتا ہے۔ اس مسئلہ کو اگلی کابینہ کی میٹنگ میں اٹھایا جائے گا۔“ذاکر نائیک پہلے بھی اپنے متنازعہ بیانوں کے سلسلے میں خبروں میں رہے ہیں۔ ہندوستان سے فرار ہونے کے بعد وہ ملائشیا میں رہ رہے ہیں۔ ان پر منی لاو¿نڈرنگ اور دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا الزام ہے۔مسٹرکلاسیگرن نے منگل کو خط لکھ کرکے ذاکرنائیک کو ہندوستان کو حوالے کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر نائیک ملائشیا کے ٹیکس دہندہ کے پیسوں پر مزے کررہے ہیں۔ مسٹر مہاتیر محمد پہلے ذاکر نائیک کے حوالگی سے انکار کرچکے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ان کے ملک میں ذاکر نائیک کی مخالفت تیز ہوگئی ہے۔ہندوستان نے رواں سال جون میں ملائشیا سے ذاکر نائیک کی حوالگی کا رسمی مطالبہ کیا تھا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ”ملائشیائی حکومت سے ذاکر نائیک کی حوالگی کے مسئلہ پر بات چیت کی جائے گی۔“