نئی دہلی، 13 مارچ (یو این آئی)لوک سبھا میں کچھ اراکین نے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں کمزورطبقوں کے لوگوں کی صحیح تعداد کا پتہ چل سکے گا اور اسی کے حساب سے فلاح وبہبود کی اسکیمیں تیار کی جائیں گی۔
جنتا دل یو کے ڈی سی گوسوامی نے سماجی انصاف اور بااختیار وزارت کے زیر اختیار گرانٹ مطالبوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس زمرے کے لوگوں کے بارے میں صحیح اعدادوشمار معلوم ہوں اس کےلئے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرانا ضروری ہے۔
انہوںنے بتایا کہ 1921 کے بعد ملک میں دیگر پسماندہ طبقوں کی ذات کے لوگوں کی مردم شماری نہیں ہوئی ہے اس لئے اس مرتبہ یہ مردم شماری کرائی جانی چاہئے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے امول رام سنگھ کولہے نے کہا کہ دیگر پسماندہ زمرے کے لوگوں کی صحیح تعداد کیا ہے اس بارے میں حکومت کو 2021 کی مردم شماری ذات کی بنیاد پر کرانی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ مہاراشٹر میں کمزور طبقے کے طالب علموں کے ایک لاکھ سے زیادہ طالب علموں کو اسکالرشپ نہیں مل رہی ہے اس لئے مرکز سے وقت پر ان طبقوں کے بچوں کے لئے اسکالرشپ کی رقم الاٹ کی جانی چاہئے۔