دیگلور:یکم ڈسمبر۔(راشد دیشمکھ) مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر 30نومبر کومولانا آزاد اردو ہائی اسکول وجونیر کالج میں مولانا آزاد کی حیات اور کارنامے پر سمینار کاانعقاد عمل میں آیا ۔ سمینار کی صدارت ایڈوکیٹ قاضی سید محسن علی نے کی اورناندیڑسے تشریف لائے مہمانان خصوصی ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی ‘محمدتقی مدیراعلیٰ روزنامہ ”ورق تازہ“ ‘ڈاکٹر خورشیداحمد ‘ڈاکٹرعظمت اللہ ( اودگیر) ‘ محمدمجاہد اجمل لکچرر کی تقاریر ہوئیں ۔جنہیں سامعین نے بغور سماعت فرمایا اور پسند کیا ۔
خورشیداحمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کی تقسیم سے قبل 1946 میںبرطانوی حکومت نے لندن سے کیبینٹ مشن ہندوستان روانہ کیا تھا ۔ اس مشن نے ملک کی آزادی کے تعلق سے جو پلان لایا تھا اگر اس کو تحریک آزادی کے قائدین قبول کرلیتے تو ملک کی تقسیم سے بچایاجاسکتاتھا ۔ڈاکٹرفہیم احمدصدیقی نے ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کوایک عظیم رہنما اور مجاہد آزادی بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا آزادنے تعلیمی شعبہ میں نمایاں کارنامے انجام دئےے تھے ۔ آج کالجوں کےلئے جو یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) قائم ہے اس کی بنیاد مولانا نے ہی رکھی تھی ۔
مدیراعلیٰ ورق تازہ محمدتقی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو دنیا میں دو ہی خطوط کے مجموعے زیادہ مشہور اورمقبول ہوئے ہیں ۔ ایک مرزا غالب کے خطوط اور دوسرا مولانا آزاد کے خطوط کامجموعہ ”غبارِ خاطر“ ۔ غبار خاطر کومولانا نے احمد نگر کی جیل میں لکھا ہے یہ خطوط ادق زبان میں ہیں ان میں علمی بحث کی گئی ہے ۔ محمدتقی نے مولانا آزاد کے سیاسی نظریات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد ملک کی تقسیم کے سخت مخالف تھے وہ مسلمانوںکی علاحدہ ریاست کی تائیدمیں بھی کبھی نہیں تھے ۔جب ملک تقسیم ہوا تو بھارت کے مسلمان ‘ پاکستان ہجرت کرنے لگے تھے انھیںہجرت سے روکنے والی شخصیت صرف مولانا آزاد کی ہی تھی ۔مولانا آزاد نے جامع مسجد کی سیڑھیوں سے تاریخیی معرکتہ آلاراءتقریر کی تھی اور مسلمانوںسے اپیل کی تھی کہ وہ اپنا ملک نہ چھوڑیں ۔ یہاں اُن کے آباو اجداد کی ہڈیاں گڑی ہوئی ہیں ۔ان کے اجداد کی علامتیں تاج محل ‘جامع مسجد ‘ قطب مینار اور لال قلعہ انھیں آواز دے رہے ہیں وہ ہجرت نہ کریں۔اس تقریر کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد نے تحریک وطن کافیصلہ ترک کردیا تھا ۔آخر میں صدرجلسہ محسن علی ایڈوکیٹ نے مولانا آزاد کی شخصیت پرروشنی ڈالی۔اس موقع پر تقریری مقابلے میںحصہ لینے والی اسکول کی طالبا ت کاانعامات سے نوازا گیا ۔ مولانا آزاد ہائی اسکول کی انتظامیہ کے سیکریٹری شیخ احمد ‘تحسین احمد ‘ پرنسپل عبدالرفیق احمد اور اساتذہ ومعلمات کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔