لکھنو:23نومبر۔(ایجنسیز)یوپی کے اناو¿ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے ایک بار پھر متنازع بیان دیا ہے۔ رام مندر مسئلے پر ساکشی مہاراج نے کہا ہے ” میں سپریم کورٹ کی مذمت کرتا ہوں۔ تمام غیر ضروری معاملوں میں سپریم کورٹ نے فیصلے دے دئے لیکن اجودھیا مسئلے پر سپریم کورٹ ٹال مٹول کر رہا ہے”۔وہیں دہلی کی جامع مسجد پر بھی ساکشی مہاراج نے متنازعہ بیان دے ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ میں آج سے الٹا سیدھا نہیں بولوں گا۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ سیاست میں آنے پر میرا پہلا اسٹیٹمینٹ تھا” اجودھیا متھرا، کاشی تو چھوڑو، دہلی کی جامع مسجد توڑو اگر سیڑھیوں کے نیچے مورتیاں نہ نکلیں تو مجھے پھانسی پر لٹکا دینا” اور آج بھی میں اپنے اس بیان پر قائم ہوں۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ مغل راج میں ہندوو¿ں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، مندر توڑے گئے اور مسجد بنائے گئے۔