’راج دھرم‘ پر عمل کریں امت شاہ، کانگریس نے صدر کو مکوب سونپا
دہلی تشدد کے معاملہ پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت پارٹی کے قدآور رہنماؤں نے آج راشٹرپتی بھون پہنچ کر صدر جمہوریہ کو مکتوب سونپا۔ صدر سے ملاقات کے بعد سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ نے میڈیا سے بات کی۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ تشدد میں متعدد لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوا ہے اور املاک کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کر دیا جائے۔
صدر کو دیئے گئے میمورنڈم کو پڑھتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا، ’’مرکزی حکومت اور دہلی حکومت اس تشدد پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، جس سے جان و مال کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ ہم آپ (صدر) سے شہریوں کی جان، آزادی اور املاک کے تحفظ کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘
دریں اثنا، سابق منموہن سنگھ نے امت شاہ کو تاکید کی کہ وہ راج دھرم کا پالن (حکمرانی کے فرائض کو بہتر طریقہ سے انجام دینے) کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہوئے تشدد کے لئے امت شاہ ذمہ دار ہیں اور مرکزی حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔




دہلی تشدد کے ہلاک شدگان کی تعداد 33 ہو گئی
دہلی کے ایل این جے پی (لوک نائک جے پرکاش) اسپتال میں ایک اور شخص زخموں کی تاب نہ لا سکا اور دم توڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 33 ہو گئی ہے۔
Delhi: Death toll rises to 33 after another person passes away at Lok Nayak Jai Prakash Narayan (LNJP) hospital. #DelhiViolence pic.twitter.com/yvqVJ4PlKA
— ANI (@ANI) February 27, 2020
سونیا اور منموہن صدر کو مکتوب پیش کرنے راشٹرپتی بھون پہنچے
دہلی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد اور ہلاکتوں پر کانگریس کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حکومت کو اس کی ناکامی پر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ راشٹرپتی بھون پہنچے ہیں جہاں وہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مکتوب پیش کریں گے۔
Delhi: Congress interim president Sonia Gandhi, former Prime Minister Dr. Manmohan Singh, and other party leaders reach Rashtrapati Bhavan to submit a memorandum to the President on #DelhiViolence. pic.twitter.com/q1SjGuAwf5
— ANI (@ANI) February 27, 2020
دہلی تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد 32 ہوئی
دہلی تشدد میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔
دہلی کے تشدد زدہ علاقوں میں فی الحال امن کا ماحول
شمال مشرقی دہلی کے علاقوں میں تازہ تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔ فی الحال ان علاقوں میں امن و امان کا ماحول نظر آ رہا ہے اور بڑی تعداد میں پولیس فورس یہاں تعینات ہے۔
دہلی کے چاند باغ، بھجن پورہ، کھجوری خاص اور سیلم پور میں امن کا ماحول ہے۔ کچھ تشدد زدہ علاقوں میں اب صفائی کا کام جاری ہے۔
Delhi: Latest visuals from Seelampur area. Security personnel have been deployed in the area. #DelhiViolence pic.twitter.com/D0N1sYEP0v
— ANI (@ANI) February 27, 2020
Delhi riots: WhatsApp groups, 'outsiders' under scanner
Read @ANI Story | https://t.co/6AElIWhZZw pic.twitter.com/HmtCEm0hVZ
— ANI Digital (@ani_digital) February 27, 2020
Delhi: Latest visuals from Chand Bagh, Bhajanpura and Khajuri Khas. Roads in the violence affected areas are being cleaned. #DelhiViolence pic.twitter.com/jfVyh4DvMx
— ANI (@ANI) February 27, 2020
دہلی تشدد میں ہلاکتوں کی اطلاعات پر یو این سکریٹری جنرل شدید غمزدہ
دہلی تشدد پر اقوام متحدہ جنرل سکریٹری کے ترجمان اسٹیفن دجارک نے کہا، ’’سکریٹری جنرل دہلی میں مظاہروں کے بعد ہلاکتوں کی اطلاعات پر بہت غمزدہ ہیں۔ جیسا کہ دیگر اسی طرح کے معاملات پر وہ کرتے ہیں انہوں نے تشدد پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تشدد کو روکا جا سکے۔
Stéphane Dujarric, Spokesman for the UN Secretary-General on #DelhiViolence: Secretary-General is very saddened by the reports of casualties following the protests in Delhi. As he has done in similar circumstances, he calls for maximum restraint and for violence to be avoided. pic.twitter.com/AM5MHQ4nAy
— ANI (@ANI) February 27, 2020
دہلی تشدد میں ہلاک شدگان کی تعداد 30 ہوئی
گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سنیل کمار گوتم نے کہا ہے کہ یہاں پر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔
Sunil Kumar Gautam Medical Superintendent, Guru Teg Bahadur (GTB) Hospital: Death toll has increased to 30 at the hospital. #DelhiViolence pic.twitter.com/PJS5VEvInH
— ANI (@ANI) February 27, 2020
اہم خبریں: دہلی تشدد پر ہائی کورٹ میں آج پھر سماعت
دہلی میں ہونے والے تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے اور دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے پر آج پھر سے سماعت ہوگی۔ پولیس کو دہلی ہائی کورٹ میں سیاسی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے پر بھی جواب دینا ہے۔
گزشتہ روز دہلی تشدد کی سماعت کرنے والے جج جسٹس مرلیدھر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور اب اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس ڈی این پٹیل کی سربراہی والی بنچ کرے گی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو