وطن عزیز بھارت کی 71سالہ تاریخ میں11ڈسمبر 2019ءکے دن کو”یوم سیاہ“ کے طور پر اس لئے یاد رکھا جائے گا کہ اس دن زعفرانی حکومت نے دستور ہند کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ”شہریت ترمیمی بل 2019ئ“(CAB) کو لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ اس بل کے ذریعہ حکومت نے ہندوتووادی رہنماویر ساورکر کے دو قومی نظریہ کو جہاں قبولیت بخشی ہے وہیں ملک کے کروڑہا مسلمانوں کو اہم قومی دھارے سے علاحدہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے ۔
لیکن اس کوشش کودنیا کے سب سے بڑے سیکولر ملک بھارت کے مسلمان اپنے سیکولر ہندو بھائیوں کے تعاون سے ایک دن ضرور ناکام بنادیں گے ۔اب یہ بل صدر جمہوریہ ہند کی منظوری کے بعد قانون بن جائے گا ۔ اور اسی کے ساتھ پاکستان ‘بنگلہ دیش اورافغانستان سے ہزاروں غیر مسلم باشندوں کی بھارت آمد کاسلسلہ شروع ہوجائےگا۔
ہمارے وزیرداخلہ امیت شاہ نے (CAB)کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پیش کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ پاکستان ‘ بنگلہ دیش اور افغانستان اسلامی ممالک ہیںا س لئے وہاں اقلیتوںہندو ‘ بودھ ‘ عیسائی ‘ پارسی ‘ جین اور سکھوں پرمظالم ڈھائے جاتے ہیں انھیں مذہبی اورضمیر کی آزادی میسر نہیں ہے ۔ان کے حقوق پامال ہورہے ہیں ۔ا ن کا زبردستی مذہب تبدیل کرواکر انھیں مسلمان بنایاجاتا ہے ۔ ان ملکوں کے ایسے تمام پناہ گزین کو ضرور کاغذات اورسرٹیفکیٹ دیکھے بغیربھارت کی شہرت دے دی جائے گی ۔یہ الفاظ امیت شاہ نے ایوان میں کہے ہیں جنہیں ایک انگریزی اخبار نے کوڈ کیا ہے ۔
Amit shah: Citizenship will be granted to refugees even without documents including ration card ( Economic Times,Mumbai)
یہی بات شہریت ترمیمی بل کی ایک شق میں کہی گئی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی غیر مسلم شہریت رجسٹریشن کےلئے ضروری ‘مجوزہ کاغذات پیش نہیں کرتا ہے تو بھی اس کا نام شہریت رجسٹر میںدرج کیاجائے گا لیکن کوئی مسلمان کاغذات یادستاویزپیش کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو اس کوپولس حراست میں لے گی اور اسے(detention centre) حراستی مرکز میں ڈال دیاجائے گا ۔ تاوقت کہ وہ اپنی شہریت ثابت نہ کرلے ۔ چنانچہ (CAB) شہریت ترمیمی بل دستور ہند کی دفعات 14]15‘21‘25اور26 کی سراسرخلاف ورزی ہے ۔ دفعہ 14کے مطابق بھارت کے تمام لوگ قانون کے سامنے برابر ہیں ۔ قانون انصاف کرتے وقت یہ نہیں دیکھے گا وہ بھارت کے شہری ہیں یا نہیں ۔دفعہ 15 اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتی کہ مذہب ‘جنس ‘مقام پیدائش‘ ذات ‘طبقہ کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے ساتھ بھید بھاو کیاجائے ۔ فعہ 21 کے مطابق بھیدبھاو کی بنیاد پر کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جائے گی ۔اسی طرح اس بل میں دفعہ 25اور26 کو بھی پامال کیاگیا ہے ۔ ان دفعات میں ضمیر اور مذہب کی آزادی دی گئی ہے ۔
مذکورہ بالاحقائق اور عوامل کی روشنی میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ وزیرداخلہ امیت شاہ نے ملک میں دو قومی نظریہ پر مہرثبت کردی ہے۔ ہم آپ کو یاد دلادیں کہ تقسیم سے قبل سب سے پہلے ہندوتواوادی رہنما ویر ساورکر نے دو قومی نظریہ (Two Nation Theory) کی بنیاد 1937 میں احمد آباد میں منعقدہ ہندو مہاسبھا کے اجلاس میں رکھی تھی ۔ ویرساورکر کے اس نظریہ کا فوری ردعمل مسلم لیگ کے اجلاس میں ہواتھا ۔جب 1938 میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قائد اعظم محمدعلی جناح نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم ہند کی تجویز پیش کی تھی جو اتفاق رائے سے منظور ہوگئی تھی ۔ تو کیا آمرانہ ذہنیت کے مالک امیت شاہ بھی شہریت ترمیمی قانون وضع کرکے ملک میںعلاحدگی پسندی کے رجحان کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کے مرتکب ہورہے ہیں؟ شہریت ترمیمی بل ایک طرح سے بھارت میں ہندو راشٹرکے قیام کی طرف ایک بڑااہم قدم ہے ۔بی جے پی کی مودی حکومت سنگھ پریوار کے پوشیدہ ایجنڈے پر ایمانداری سے کاربند ہے ۔ اورمستقبل قریب میں سنگھ پریوار مرکزی حکومت کو یکساںسول کوڈ کے نفاذ کے لئے زمین ہموار کرنے پرزور دے گا ۔ اس لئے مسلمانوں کو نوشتہ دیوار کو پڑھ لیناچاہئے ۔ تین طلاق کے خلاف قانون ‘ بابری مسجد مقدمہ میں شکست اوراب شہریت ترمیمی بل کی منظوری سے مسلمانوں کومایوس ‘دل برداشتہ یاخوف زدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹھنڈے دماغ سے حالات حاضرہ کا جائزہ لے کر مخالف طاقتوں اور نظریوں کامقابلہ کرنے کوئی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ۔ مسلمانوں کے مختلف مذہبی گروہوں اورتنظیموں کو متحدہ طور پرپُرامن احتجاج اور مذمت کامظاہرہ کرتے ہوئے سیکولر ہندو سیاسی جماعتوں غیر سیاسی تنظیموں اورسیکولرافراد کو ساتھ لے کر زعفرانی ھکومت پراپنا فیصلہ تبدیل کرنے کےلئے دباو ڈالنا ہوگا ۔
مسلمانوں کے خلاف ہورہی قانون سازی کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے ملک گیر سطح پر مہم چلانی ہوگی ۔ شہریت رجسٹریشن کےلئے جو سرٹیفکیٹ اور کاغذات درکار ہیں انھیں حاصل کرنے کے لئے عام مسلمانوں خاص طور پر ان پڑھ ‘جاہل اور غریب مسلمانوں کی رہنمائی کے مراکز قائم کرنے ہوں گے جس طرح کے بنگلور میں رہنمائی مراکز قائم ہوچکے ہیں ۔
شہریت ترمیمی بل 2019ءکے خلاف جمعیتہ علماءہند سمیت کئی مسلم اورغیر مسلم شخصیات اورتنظیموں نے سپریم کورٹ میںرٹ پٹیشن دائر کرنے کااعلان کیا ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ نے تو اس طرح کی رٹ پٹیشن کورٹ میںداخل بھی کردی ہے ۔ لیکن سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی توقعات پر بھی سوالیہ نشان لگتے جارہے ہیں ۔ کیونکہ بابری مسجداراضی مقدمہ میںسنگھ پریوار اورمرکزی حکومت کے دباومیں سپریم کورٹ نے ہندوعقیدہ کی بنیاد پر بابری مسجد کی اراضی ‘رام مندر کودینے کاتازہ فیصلہ صادر کیا ۔ اس لئے قانونی لڑائی کے ساتھ ہی مسلمانوں کو میدانی جدوجہد کےلئے بھی کمربستہ ہونا ہوگا ۔ مسلم حریت پسند قوم کے تعلق سے علامہ اقبال نے دُرست کہاہے
نہیں نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہوتویہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
