ایک گروہ جو تقریباً بیس برس سے غزہ کی پٹی پر حکمرانی کر رہا ہے، 20 لاکھ فلسطینیوں پر آہنی ہاتھ سے حکومت کر چکا ہے اور اسرائیل کے ساتھ بارہا جنگیں لڑ چکا ہے، وہ اچانک ہتھیار ڈال کر اقتدار سے دستبردار کیسے ہو سکتا ہے؟
10 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے غزہ سے سامنے آنے والی ہولناک تصاویر کے تسلسل کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ حماس اپنی اتھارٹی دوبارہ قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
نقاب پوش مسلح افراد ایک بار پھر سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں، جو اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔۔۔ بعض کو گولی مار کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر بنائے گئے فائرنگ سکواڈز ان گھٹنوں کے بل بیٹھے مردوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں جنھیں وہ حریف گروہوں، خصوصاً غزہ کی بااثر قبائل، سے تعلق رکھنے والا قرار دیتے ہیں۔
دیگر متاثرین خوف کے مارے سہمے ہوئے ہیں۔۔۔ کسی کی ٹانگوں میں گولیاں ماری جا رہی ہیں تو کسی کو بھاری ڈنڈوں سے پیٹا جا رہا ہے۔
ایک امدادی کارکن کے مطابق حماس کے نشانے پر آنے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو مبینہ طور پر امداد لوٹنے یا اس کا رخ موڑنے والے گروہوں سے وابستہ تھے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہوا۔ اقوام متحدہ نے بھی بعض جرائم پیشہ گروہوں پر امداد چوری کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
دیکھنا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کے نظریات مساجد، سڑکوں اور سکولوں میں پھیلیں۔
اب بھی غزہ میں سب سے اہم کھلاڑی‘
مستقبل کا غزہ کیسا ہو گا، اس بارے میں مؤمن النطور کا اپنا ایک تصور ہے۔
ان کے خیال میں وہ مختلف مسلح گروہ جو اب حماس کے حملوں کی زد میں ہیں، نئی سکیورٹی فورس میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ان کے متضاد ایجنڈے، بعض اوقات مبہم ماضی اور بعض صورتوں میں اسرائیلی فوج سے متنازع تعلقات کے پیشِ نظر، یہ ایک مشکل اور پیچیدہ صورتِ حال ہے۔
ڈاکٹر مائیکل ملشٹائن، جو اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس میں محکمۂ فلسطینی امور کے سابق سربراہ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ حقیقت یہی ہے کہ حماس اب بھی موجود ہے اور غزہ میں سب سے مضبوط طاقت ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ قبائل، ملیشیائیں اور گروہ جن میں بہت سے مجرم شامل ہیں، بعض داعش سے منسلک ہیں اور بعض اسرائیل کے خلاف حملوں میں ملوث رہے ہیں، ان پر بھروسہ کرنا اور انھیں حماس کا متبادل سمجھنا ایک بھول ہو گی۔
حماس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کا سیاسی کنٹرول حوالے کرنے پر تیار ہیں۔ ٹرمپ کے جنگ بندی کے منصوبے، جس کی حماس نے مشروط حمایت کی، میں ’غزہ میں عارضی عبوری انتظامیہ کے طور پر ایک ٹیکنوکریٹک، غیرسیاسی فلسطینی کمیٹی‘ کی تشکیل تجویز کی گئی ہے۔
تاہم اگر یہ گروہ اپنے سیاسی کردار سے پیچھے ہٹنے پر رضامند ہو بھی جائے، تب بھی اس کے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ حماس کی طاقت اکتوبر 2023 سے پہلے بھی بڑی حد تک ہتھیاروں اور مسلح قوت پر مبنی تھی، اس لیے یہ قدم اس کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
حماس کا عروج اور غزہ پر اس کی سخت گرفت
حماس کے مستقبل کے بارے میں سوال کا جواب دینے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس نے اقتدار کیسے مضبوط کیا۔
1980 کی دہائی میں مصر کی مسلم برادری سے نکلنے والی ایک شاخ کے طور پر اور سیکولر فلسطینی آزادی تنظیم (پی ایل او) کے حریف کے طور پر شروع ہونے والی حماس، ایک پرتشدد عسکری گروہ میں تبدیل ہو گئی جس نے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں حصہ لیا۔
ابتدا میں اسرائیل نے حماس کو خفیہ طور پر حمایت دی کیونکہ اسے پی ایل او اور اس کے غالب دھڑے فتح کے مقابلے میں ایک مفید توازن سمجھا جاتا تھا، جس کی قیادت اس وقت یاسر عرفات کر رہے تھے۔
امی آیالون، اسرائیل کی داخلی سکیورٹی سروس شِن بیت کے سابق سربراہ، کہتے ہیں ’اہم دشمن الفتح تھا، کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو فلسطینی ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے۔‘
لیکن جب حماس نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں اسرائیلی شہریوں پر خودکش حملے کیے تو اسرائیل نے ایک سلسلہ وار ہائی پروفائل قتلِ عام کے ذریعے جواب دیا۔
فتح کے ساتھ طاقت کی جنگ کے بعد اور 2006 کے انتخابات جیت کر حماس نے غزہ پٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
حماس کی اٹھارہ سالہ حکمرانی کے دوران غزہ پر اسرائیلی فوجی اور اقتصادی محاصرہ رہا اور 2008-09، 2012، 2014 اور 2021 میں مسلح تصادم کے دور آئے۔
اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی جانب سے دعوے کیے گئے کہ ’حماس داعش ہے‘ لیکن اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی حکومت نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ حماس کوئی سٹریٹجک خطرہ نہیں ہے۔
امی آیالون کے مطابق ’نتن یاہو کی پالیسی تنازع کو سنبھالنے کی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اسے حل نہیں کریں گے اور دو ریاستوں کی حقیقت کے خلاف ہیں تو واحد راستہ تقسیم اور کنٹرول ہے۔‘