بی جے پی کی سپاری پر سیاست کرنے والے سنجے نروپم ’چمبل سیاست‘کے نمائندہ بن چکے ہیں: امول ماتیلے
ووٹروں کی فرضی فہرست پر راج ٹھاکرے کے الزام کے بعد سنجے نروپم کی مداخلت غیر ضروری، الیکشن کمیشن کا ترجمان بننے کی کوشش
ممبئی: مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ میں 94 لاکھ فرضی ناموں کے الزام پر ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے بیان کے بعد سنجے نروپم کی جانب سے دیے گئے ردعمل نے نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔ این سی پی شرد چندر پوار کے ترجمان اور ممبئی یوتھ کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے سنجے نروپم کو بی جے پی کا غیر اعلانیہ ترجمان قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ مہاراشٹر کی سیاست میں بی جے پی کی سپاری لے کر ’چمبل سیاست‘ کر رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ ماتیلے نے کہا کہ کانگریس میں رہتے ہوئے سنجے نروپم نے بی جے پی کے اشارے پر مہا اگھاڑی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور آج شندے گروپ میں شامل ہو کر بی جے پی کی دلالی کا اگلا مرحلہ بھی طے کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق سنجے نروپم کا سیاسی کردار ہمیشہ اقتدار اور مفاد کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ایڈووکیٹ ماتیلے نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی کانگریس کی صدارت کے دوران نروپم نے پارٹی میں انتشار پیدا کیا، کارکنوں کو بدظن کیا اور بی جے پی کے بجائے پارٹی کے اپنے قائدین کے خلاف محاذ آرائی کی، جس کا فائدہ براہ راست بی جے پی کو ملا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے کے بعد نروپم نے انتخابی مہم سے لا تعلقی اختیار کی، جس کے نتیجے میں کانگریس کو واضح نقصان اور بی جے پی کو فائدہ ہوا۔
امول ماتیلے نے شندے گروپ میں شمولیت کو بھی سنجے نروپم کی سیاسی موقع پرستی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں اقتدار، وہاں نروپم‘ ان کی اصل سیاسی شناخت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے خلاف کسی بھی تنقید پر سنجے نروپم فوراً دفاع میں اتر آتے ہیں اور ٹی وی ڈیبیٹس سے لے کر سوشل میڈیا تک بی جے پی کے غیر رسمی ترجمان کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ایڈووکیٹ ماتلے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کام سے سنجے نروپم کا کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ خود کو کمیشن کا ترجمان بنا کر غیر ضروری مداخلت کر رہے ہیں، جو جمہوری عمل میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگی ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر بی جے پی کے پی آر کے طور پر کام کرنے والے افراد اسے گمراہ کن بیانات کے ذریعے سیاسی رخ دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
این سی پی (شرد پوار) نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں موجود مبینہ فرضی ناموں کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور جمہوری عمل میں سیاسی دلالوں کی مداخلت پر روک لگائی جائے۔ پارٹی نے سنجے نروپم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بی جے پی نوازی کا اعتراف کریں یا عوام کو گمراہ کرنا ترک کریں۔
NCP-SP Urdu News 21 Oct. 25.docx
