
حیدرآباد2 ستمبر(یواین آئی)تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع کے ایک شخص کا 16سالہ تکلیف دہ انتظاربالاخر ختم ہوگیا کیونکہ دبئی میں پھنسے اس ورکر کی واپسی ہوئی اور وہ اپنے خاندان سے دوبارہ مل سکا۔ضلع کاماریڈی کے چنتامن پلی گاوں سے تعلق رکھنے والا ایلیا سال2004کو تعمیراتی کمپنی میں مزدوری کے لئے دبئی گیا تھاتاہم اس کی قسمت خراب تھی۔اس نے ملازمت چھوڑ دی اور 16سال سے وہ دبئی وشارجہ میں چھوٹا موٹا کام کررہا تھا۔وہ اپنے وطن واپس نہیں ہوپارہا تھا کیونکہ اس کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا۔چونکہ اس نے درمیان میں ہی ملازمت ترک کردی تھی اسی لئے اس کے سفری دستاویزات اس کمپنی کے پاس ہی رہ گئے تھے۔
کمپنی نے اس کا پاسپورٹ واپس ہی نہیں کیا تھا۔دبئی میں سرگرم جین سیوا مشن کے سماجی جہدکار روپیش مہتا کو اس کی پریشانی کا علم ہوا جنہوں نے دبئی میں ہندوستانی قونصل خانہ سے اس کے لئے عارضی پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد کی۔ایلیا کے پرانے پاسپورٹ کی تفصیلات نہ ہونے کے نتیجہ میں عارضی پاسپورٹ کی اجرائی میں تاخیر ہوئی۔ایلیا کی اہلیہ نے حیدرآباد پاسپورٹ آفس سے اس کے شوہر کے پرانے پاسپورٹ کی تفصیلات ڈاٹا بیس سے نکالنے کی خواہش کی تھی۔ان تفصیلات کو نکالنے کے بعدیہ تفصیلات دبئی میں ہندوستانی قونصل خانہ کو فراہم کی گئیں جس نے عارضی پاسپورٹ جاری کیا۔جیتندر سنگھ نیگی اور ہرجیت سنگھ لیبر وکلا سی جی آئی،دبئی نے ایلیا کی مدد کی۔قونصل خانہ نے دبئی سے حیدرآباد سفر کے لئے ایلیا کو مفت فضائی ٹکٹ کی سہولت فراہم کی۔
ایمگریشن کے قواعد کے مطابق جو غیر قانونی طورپر مقیم ہوتے ہیں کو ہر دن 25یواے ای درہم(500روپے)ادا کرنے پڑتے ہیں۔ایلیا کے 16سال قیام کی رقم 1.46لاکھ درہم (29لاکھ روپئے)ہوئی۔سماجی جہدکار روپیش مہتا نے ہندوستانی قونصل خانہ کے ذریعہ دبئی کے ایمگریشن عہدیداروں سے رابطہ کیا جنہوں نے یہ رقم معاف کردی۔اس کو یواے ای سے جانے کی اجازت بھی دی گئی۔کوویڈوبا کے پیش نظردبئی حکومت کی جانب سے معافی کی اسکیم کا اس معاملہ میں کافی فائدہ ہوا۔ایلیا پیر کی شب دبئی سے حیدرآباد ایرپورٹ پہنچا۔اس کی یادداشت کی کمزوری اور جسمانی کمزوری کے پیش نظر اس کے خاندان کی درخواست پر اس کو گھر میں الگ تھلگ رکھنے کی ہدایت دی گئی۔حیدرآباد ایرپورٹ کے پروٹوکول اسٹاف نے ایلیا کے ایمگریشن کے امور کی تکمیل کی اور رات دیر گئے اس کو اس کے خاندان سے ملادیاگیا۔پرواسی مترا لیبر یونین حیدرآباد نے ایلیا کے خاندان کے ساتھ تعاون کیا۔ایلیا کے خاندان نے اس کو واپس لانے کے سلسلہ میں تعاون کرنے والے ہر فرد کاشکریہ ادا کیا۔بھیم ریڈی این آر آئی جہدکارنے ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے اپیل کی کہ ایلیا کی بازآباد کاری کی جائے۔انہوں نے گاوں والوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس طرح کا ماحول تیار کریں جیسا ماحول ایلیا گھر میں محسوس کرتا ہے۔