حیدر آباد انکاؤنٹر کے بعد عام لوگ پولس کو اپنی گود میں اٹھاتے، ان پر پھولوں کی بارش کرتے اور مٹھائی کھلا کر شاباشی دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حیدر آباد پولس اور خصوصی طور پر پولس کمشنر سی پی سجنار کی سوشل میڈیا پر تو تعریف ہو ہی رہی ہے، سڑکوں پر بھی لوگ ان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایک طرف تو یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ حیدر آباد پولس کے ذریعہ کیا گیا یہ انکاؤنٹر درست ہے یا نہیں، اور دوسری طرف عام خواتین اسے ’انصاف‘ سے تعبیر کر رہی ہیں۔ خاتون ویٹنری ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے چاروں ملزمین کی ہلاکت کے بعد حیدر آباد میں سڑکوں پر کیا کچھ ہو رہا ہے، آئیے اس ڈالتے ہیں ایک نظر…



پولس ملازمین کو عوام نے گود میں اٹھایا
شہر حیدرآباد کے سائبر آباد پولس کمشنریٹ کے حدود میں 26سالہ ویٹنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل اور لاش کو جلادینے کی واردات میں ملوث تمام چار ملزمین کی انکاونٹر میں ہلاکت کے واقعہ پر پُرجوش ہجوم نے پولس ملازمین کو اپنی گود میں اٹھا لیا،ان کی حمایت میں نعرے بازی کی اور اس انکاونٹر پر جشن منایا۔جس جگہ پر ملزمین کا انکاؤنٹر پولس والوں نے کیا، وہاں عوام کی بڑی تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے۔
#WATCH Hyderabad: People celebrate and cheer for police at the encounter site where the four accused were killed in an encounter earlier today. #Telangana pic.twitter.com/WZjPi0Y3nw
— ANI (@ANI) December 6, 2019
پولس پر پھولوں کی ہوئی بارش
جس جگہ پر چاروں ملزمین کا انکاؤنٹر ہوا، اس کا نام چٹان پلی برج ہے۔ یہاں لوگوں کی زبردست بھیڑ جمع ہے اور عوام نے پُل پر سے پولس کے اوپر پھولوں کی بارش کی۔ لوگوں نے پولس کی حمایت میں نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین اسی طرح کی سزا کے حقدار تھے۔ ہجوم نے ڈی سی پی زندہ باد،اے سی پی زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
Hyderabad: Locals had showered rose petals on Police personnel at the spot where accused in the rape and murder of the woman veterinarian were killed in an encounter earlier today pic.twitter.com/66pOxK1C2b
— ANI (@ANI) December 6, 2019
مقتولہ ڈاکٹر کی پڑوسی خواتین نے پولس میں مٹھائی تقسیم کی
ویٹنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری اور نذرِ آتش کیے جانے کے واردات نے مقتولہ کے پڑوسیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ پولس انکاؤنٹر میں ملزمین کی ہلاکت کے بعد انھیں کافی خوشی ہوئی ہے اور اس کا اظہار بھی انھوں نے کھل کر کیا۔ مقتولہ ڈاکٹر کی پڑوسی خواتین نے پولس ملازمین میں مٹھائی تقسیم کی اور اس انکاونٹر کا جشن منایا۔یہ خواتین جو دیشا واقعہ کے بعد پولس سے کافی ناراض تھیں، انھوں نے انکاونٹر میں ملزمین کی ہلاکت کی اطلاع پر مسرت کا اظہار کیا۔ ان خواتین کے ساتھ ساتھ دیگر مرد حضرات نے بھی تلنگانہ پولس اور تلنگانہ میڈیا کے حق میں نعرے بازی کی۔
#WATCH Hyderabad: Neigbours of the woman veterinarian, celebrate and offer sweets to Police personnel after the four accused were killed in an encounter earlier today pic.twitter.com/MPuEtAJ1Jn
— ANI (@ANI) December 6, 2019
مقتولہ ڈاکٹر کی پڑوسی خواتین نے پولس کو باندھی راکھی
مقتولہ ڈاکٹر کی پڑوسی خواتین پہلے تو پولس والوں سے کافی ناراض تھیں کیونکہ ان کی مبینہ لاپروائی کی وجہ سے عصمت دری اور قتل کا واقعہ سامنے آیا۔ یہ سبھی خواتین اپنی سلامتی کو لے کر فکر مند تھیں اور پولس پر برہمی ظاہر کررہی تھیں۔ ملزمین کے انکاؤنٹر کے بعد مقتولہ ڈاکٹر کی کچھ پڑوسی خواتین نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور پولس والوں سے اپنی ناراضگی ختم ہونے کی بات کہی۔ انکاؤنٹر کا جشن مناتے ہوئے ان خواتین نے پولس والوں کو راکھی بھی باندھی۔
Hyderabad: Neigbours of the woman veterinarian, tie rakhi to Police personnel after the four accused were killed in an encounter earlier today pic.twitter.com/ltNsBLOPO6
— ANI (@ANI) December 6, 2019
انکاؤنٹر کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ہو رہی ’حیدر آباد پولس‘ کی تعریف
ملک بھر میں سنسنی پھیلادینے والے حیدرآباد اجتماعی عصمت دری، قتل اور لاش کو زندہ جلادینے والے واقعہ میں ملوث ملزمین کی انکاونٹر میں ہلاکت کی خبر پر سوشل میڈیا یعنی واٹس ایپ،ٹوئٹر اور فیس بک وغیرہ پر مسرت کا اظہار کیاجارہا ہے۔اب تک پولس کی نکتہ چینی کرنے والے افراد نے سوشل میڈیا پر تعریف کرنی شروع کر دی ہے۔ تلنگانہ کی سائبر آباد پولس کی خوب ستائش ہو رہی۔ خصوصی طور پر پولس کمشنر سنجار کی سوشیل میڈیا پر کئی افراد نے ستائش کی ہے۔
(یو این آئی اِن پٹ کے ساتھ)
#WATCH Hyderabad: 'DCP Zindabad, ACP Zindabad' slogans raised near the spot where where accused in the rape and murder of the woman veterinarian were killed in an encounter by Police earlier today. #Telangana pic.twitter.com/2alNad6iOt
— ANI (@ANI) December 6, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
