حیدرآباد :انکاؤنٹر کس طرح انجام دیا گیا پڑھئے

حیدرآباد:ریمانڈ کے دوران پولیس چاروں ملزمین کو جائے وقوعہ پر لے گئی۔ پولیس ملزم کی نظر سے پورے واقعے کو سمجھنا چاہتی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ اس دوران ان چاروں نے پولیس کی گرفت سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ ایسی صورتحال میں پولیس کے سامنے گولی چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے ان کو پکڑنے کے لئےفائرنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں ملزمین ہلاک ہوگئے۔ بعدازاں ان کی لاشوں کو سرکاری اسپتال منتقل کردیا گیا۔

اس انکاؤنٹرمیں متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ سائبر آباد پولیس کمشنر نے بتایا کہ وہ پورے واقعے سے آگاہ نہیں ہیں اور وہ جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ پرپہنچ گئے ہیں۔ وی سی سجنار کا کہناہے کہ اس پورے واقع پرجلدہی پریس کانفرنس منعقد کی جائیگی۔

اس معاملہ کی ایک ملزم کی والدہ نے کہا کہ تھااگراس نے ایسا گھنائونا جرم کیا ہے تو انہیں فوراسزا دی جانی چاہئے یا انہیں زندہ جلایا جانا چاہئے۔ اس واقعے کے ایک ملزم سی چننکاشولو کی والدہ ، شمالہ نے کہاتھا، "اسے موت کے حوالے کرنا چاہیے یا پھر اسے آگ لگا دی، جیسا کہ اس نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری کے بعد کیا تھا۔”ملزم کی والدہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کنبہ کے درد کو سمجھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ، ‘میری بھی ایک بیٹی ہے اور میں اس خاندان کے درد کو سمجھ سکتی ہوں ، اس وقت اس کنبہ کے ساتھ کیاچل رہا ہے۔ اگرمیں اپنے بیٹے کا دفاع کروں تو لوگ ساری زندگی مجھ سے نفرت کریں گے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading