حیدرآباد:انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ کے عروج پر انڈیا کے شہر حیدرآباد میں موجود تاریخی کراچی بیکری کے سامنے ہلڑ بازی اور بی جے پی کے کارکنان کی جانب سے اس کے سائن بورڈ کو ڈنڈے مارنے کی ویڈیوز دونوں ملکوں کے سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔
انڈیا کے مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 10 مئی کا ہے یعنی جس روز دونوں ممالک کے چار روز تک ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد سیز فائر معاہدہ طے پایا تھا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کراچی بیکری کے سامنے موجود چند افراد جنھوں نے گلے میں نارنجی رنگ کے مفلر ڈال رکھے ہیں اور ہاتھوں میں انڈیا کے جھنڈے ہیں وہ ‘پاکستان مردہ باد’ کے نعرے لگا رہے ہیں۔
ایک اور ویڈیو میں وہ ڈنڈوں کے ذریعے سائن بورڈ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس دوران ‘بھارت ماتا کی جے’ کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ اس دوران تین پولیس اہلکار انھیں روکنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
صحافی انوشہ روی سود نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حوالے سے ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ ایک 60 سال پرانی بیکری ہے جو ایک انڈین برانڈ ہے اور اسے خانچند رمنانی نے بنایا تھا۔ بیچاری کراچی بیکری جس کا پاکستان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس ہر دفعہ پاکستان کے ساتھ تناؤ کے دوران اس قسم کی حرکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
کراچی بیکری میں توڑ پھوڑ کی مذمت
اس واقعے پر انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ایک صارف سنجیو نے لکھا کہ ’یہ لوگ جھنڈوں کو اسلحہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ان پر مقدمہ کر کے انھیں جیل بھیجنا چاہیے۔صارف رجیندرا کوشیک نے ایکس پر لکھا کہ ’اس سے پتا چلتا ہے کہ ان غنڈوں کے ذہنوں میں بیوقوفی بھری ہوئی ہے۔‘
بی جے پی تلنگانہ کے ترجمان نیچاراجو وینکاتا سوبھاش نے ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹ ساؤتھ فرسٹ سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے ساؤتھ فرسٹ کو بتایا کہ ’مجھے بی جے پی کے کسی بھی کارکن کی توڑ پھوڑ کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں علم نہیں ہے تاہم مجھے یہ پتا ہے کہ کراچی بیکری کو توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑا۔
’میں نہیں سمجھتا کہ یہ ٹھیک ہوا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کے نام میں کراچی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا تعلق بھی کراچی سے ہو۔ بیکری کی متعدد برانچز کے باہر فخر سے انڈین جھنڈے لگائے جاتے ہیں۔‘
تین روز قبل کراچی بیکری نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل سے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’ہمیں انڈین ہونے پر فخر ہے۔ کراچی بیکری 100 فیصد انڈین برانڈ ہے، یہ انڈیا کے شہر حیدرآباد میں 1953 میں قائم ہوئی تھی۔ ہمارا نام ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن ہماری قومیت کا نہیں۔ ہم آپ سے حمایت کی درخواست کرتے ہیں، ہم ایک انڈین برانڈ ہیں جو انڈیا کی محبت سے خدمت کر رہا ہے۔‘