جن ریاستوں میں بی جے پی بر سراقتدار ہے وہاں پر ہجومی تشدد کی دہشت جاری ہے۔ جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کے کھرسواں میں چوری کے شک میں بھیڑ نے ایک 24 سالہ مسلم نوجوان کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا کہ اس کی موت ہو گئی۔ خبروں کے مطابق تبریز انصاری نام کے نوجوان کو کئی گھنٹوں بری طرح پیٹا گیا۔ اس دوران اس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ 18جون کو نوجوان کی پٹائی کرنے کے بعد پولس کے حوالہ کر دیا گیا تھا جہاں 22 جون کو اس کی حالت خراب ہوگئی، پولس اس نوجوان کو اسپتال لے کر گئی جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔
One more Mob Lynching, Jharkhand.
Tabrez Ansari aka Sonu was brutally thrashed by Mob in suspicion of theft.
When he told his name to Mob, then Mob beaten him up brutally, Yesterday he died in Hospital.
Welcome to Modi's Hindu Rashtra 2.0
Part 1
1/n pic.twitter.com/BN3eEEfUl5— Aminul Hb (@notinnames) June 23, 2019
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اس نوجوان کو چوری کے الزام میں پکڑا گیا تھا تو بھیڑ نے قانون کو اپنے ہاتھ میں کیوں لیا اور چوری کا ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کے نعروں سے کیا تعلق ہے۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل کر کے کیا اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

اس نوجوان کی پٹائی کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اس میں بھیڑ نوجوان کو لاٹھی اور ڈنڈوں سے پٹائی کرتی نظر آ رہی ہے ۔ ایک دوسرے ویڈیو میں بھیڑ اس سے ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کے نعرے لگانے پر بھی مجبور کر رہی ہے۔ اس تعلق سے پولس نے ایک ملزم کو گرفتار بھی کیا ہے۔ خبروں کے مطابق نوجوان پونے میں ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اور عید کے موقع پر گھر آیا ہوا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
