جھارکھنڈ موب لچنگ: تبریز انصاری کے اہل خانہ کانیا دعویٰ

رانچی، 27 جون.(پی ایس آئی)جھارکھنڈ میں موٹر سائیکل چوری کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیئے گئے تبریز انصاری کے ایک رشتہ دار کا دعویٰ ہے کہ اسے زہریلا پانی دیا گیا تھا. تبرےز کے رشتہ دار محمد مسرور نے بتایا، ‘تبرےز کے ساتھ مارپیٹ کے بعد اسے’ دھتورا ‘ملا ہوا پانی دیا گیا تھا.’ ساتھ ہی بتایا کہ اس معاملے میں چارج شیٹ فوری طور پر فائل ہونی چاہئے اور قصورواروں کو سزا ملنی چاہئے. ‘ اس معاملے میں اہم ملزم سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا. کانگریس، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، راشٹریہ جنتا دل اور لیفٹ پارٹیوں نے سی بی آئی کا مطالبہ کرتے ہوئے شاہی محل پر دھرنا مظاہرہ کیا.وہیں، جھارکھنڈ ریاست اقلیتی کمیشن کی تین رکنی ٹیم نے منگل کو تبرےز انصاری کے گاو¿ں کا دورہ کیا. کمیشن کے صدر محمد کمال خان نے کہا، ‘ہم نے مرحوم کے گاو¿ں، کدمڈیہ کا دورہ کیا، ساتھ ہی جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا اور مرحوم کے خاندان کے ارکان سے معلومات جمع کی ہے.’ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ضلع انتظامیہ نے مجرموں کو پکڑنے اور ایسے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں.تبرےز کے قتل کئے جانے کی مخالفت میں سینکڑوں لوگ یہاں جنتر منتر پر جمع ہوئے اور انہوں نے گزشتہ ہفتے ہوئے اس واقعہ کے معاملے میں پردیش کے وزیر اعلی رگھبر داس سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا. مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد نے کہا کہ یہ ” شرمناک ” ہے کہ اپوزیشن کو اس گھناو¿نے واقعہ کے بارے میں بات کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت لگ گیا. عمر نے بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کے واقعہ کو روکنے کے لئے ” نربھیا جیسی تحریک ” کا اعلان بھی کیا.عمر نے کہا، ” لوگوں کو سڑکوں پر اترنے کی ضرورت ہے کیونکہ قصورواروں کو سیاسی تحفظ دیا جا رہا ہے. ‘ سابق طالب علم رہنما نے کہا، ‘ہمارا غصہ اپوزیشن پر بھی ہے. آج وہ کہاں ہیں. ‘ مظاہرین اپنے ہاتھ میں تختیاں لئے ہوئے تھے. انہوں نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور داس کا وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ مانگا. اس مظاہرہ میں سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار نے بھی حصہ لیا.بتا دیں، جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساوا ضلع میں ہجوم نے تبرےز انصاری کو چوری کے شبہ میں مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا. تبرےز انصاری کی 17 جون کو پٹائی کی گئی اور 22 جون کو اس نے دم توڑ دیا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading