اس طرح ہندوستان کے دیگر علاقوں کے شہریوں پر دہائیوں پرانی اس پابندی کا خاتمہ ہو گیا ہے، جس کے تحت وہ کشمیر کے خطے میں نہ مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے اور نہ ہی وہاں مکان یا جائیداد خریدنے کے مجاز تھے۔
اس موضوع پر پاکستان اور ہندوستان کے صارفین کے درمیان اختلافِ رائے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک طرف بہت سے پاکستانی صارفین اس ہندوستانی اقدام کی شدید مذمت کر رہے ہیں، تو دوسرے جانب ہندوستانی سوشل میڈیا صارفین کا ایک طبقہ اسے ایک تاریخی اقدام قرار دے کر جشن منانے میں مصروف ہے۔
ایک ہندوستانی صارف امن یادو نے ارب پتی شخصیت کے حوالے سے لکھا، ”امبانی کشمیر میں جائیداد خریدنے جا رہے ہیں۔‘‘
ایک اور صارف جیانتا مترا لکھتے ہیں، ”آرٹیکل تین سو ستر ختم کر دی گئی ہے۔ ہم اس فیصلے پر خوش ہیں۔ جو ستر سال تک حکومتیں نہ کر پائیں، وہ آپ نے کر دکھایا۔ یہ سنگ میل عبور کرنے پر امت شاہ کو مبارک باد۔‘‘
دوسری جانب پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں سے کئی ملکی حکومت اور سیاست دانوں پر تنقید کر رہے ہیں کہ اس موقع پر ان کی جانب سے ردعمل کم زور رہا۔
پاکستانی سوشل میڈیا صارف احتشام الحق لکھتے ہیں، ”جب ہندوستان کی سیاسی قیادت متحد تھی، ہماری سیاسی قیادت تقسیم کا شکار تھی۔‘‘
پاکستانی سماجی کارکن عمار علی جان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا، ” کشمیر کے اہم قائدین گھروں میں نظربند ہیں۔ فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ واضح طور پر لگتا ہے کہ ہندوستان جنگ کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس پر بین الاقوامی برداری کی مجرمانہ خاموشی برقرار ہے۔ شرم ناک!‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
