جمعیة علماءاترپردیش کے صدر و قاضی شہر کانپور حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کا انتقال

تدفین صبح 9بجے جاجمؤ کانپور میں عمل میں آئی

کانپور(محمد عثمان) قوم وملت کے ہمدرد ،بھائی چارہ اور یکجہتی کے پیامبرقاضی شہرکانپور، صدر جمعیة علماءاترپردیش حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی رات تقریباً دوبجے مالک حقیقی سے جاملے(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔آپ کے انتقال پرملال کی ناگہانی خبر سے پورے شہر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور تمام دینی وملی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔اس قحط الرجال میں آپ کا ہم سے اتنی عجلت میں جدا ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جاملنا یہ کسی ایک خاص طبقے کا خسارہ نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ خسارہ ہے جس کا پر ہونا بظاہربہت مشکل ہے۔

مولانا جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے بانی ہونے کے علاوہ مختلف مذہبی تنظیموں کے اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے دینی خدمات انجام دینے میں پیش پیش رہتے تھے۔ مولانا نے کل ہند علمی اکیڈمی کا قیام تقریباً پانچ سال پہلے کیا۔ علماءومفتیان پر مشتمل اس اکیڈمی میں جدید دور میں پیدا ہونے مسائل کا شرعی حل پیش کیا جاتا ہے۔کانپور کے اطراف میں تقریباً 39مکاتب قائم کئے ۔

مولانا اسامہ قاسمی جنہوں نے اپنی پوری عمر قوم وملت کی خدمت میں وقف کردیا تھا۔ ہندومسلم بھائی چارہ اور آپسی محبت کا پیغام زندگی بھردیتے رہے۔ان کے انتقال سے ہم ایک مؤقرعالم محروم ہوگئے جس کا بدل بادی النظر میں دکھائی نہیں دیتا۔ خطیب شہیر ہونے کے ساتھ ساتھ غریبوں وضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پوری کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔ خدمت خلق اوردین کی اشاعت اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں مصروف رہنے والے عالم دین بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

آپ جمعیة کے صدر ہونے ساتھ ساتھ مختلف تنظیموں کے صدر وسرپرست بھی تھے ۔ کرونا وائرس کے سبب لگنے والے لاک ڈاؤن میں بلا تفریق مذہب ملت لوگوں کی مدد کرنے میں شب وروز مصروف رہے ۔ ان کی خدمت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نازک موقع پر اللہ نے آپ کے ذریعہ 60لاکھ روپئےسے زیادہ کی ضروری اشیائے خورد ونوش غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرانے کاعظیم کام لیا۔

خدمت خلق میں دن ورات کی مصروفیت کی وجہ سے آپ کی صحت خراب ہوگئی ۔پہلے انہیں میدانتا ہاسپل میں داخل کرایا گیا تھا۔ رات تقریباً آٹھ بجے طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ہیلٹ اسپتال کانپور ریفر کردیا گیا جہاں رات تقریباً دوبجے رب حقیقی سے جاملے۔

مرحوم کو دینی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملا تھا ۔ آپ کے والد محترم مولانا مبین الحق قاسمی بھی معروف عالم دین کے ساتھ بہترین ناظم اجلاس ومقرر تھے تاریخی ادارہ جامع العلوم پٹکا پور میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں طلباءمیں آپ کا درس بہت مقبول تھا ۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا نفیس اکبر صاحب ؒ جنہوں نے ہتھورا باندہ میں دین کی خدمات انجام دیں اور قاری صدیق احمد باندویؒ کے معتمد خاص تھے وہ آپ کے خسر تھے۔ موجودہ وقت میں ان کے خاندان کے متعدد علماءپوری تندہی کے ساتھ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

حضرت مولانا محمد طلحہ قاسمی نقشبندی اور مولانا محمد حذیفہ قاسمی جوممبئی میں خدمت انجام دینے کے ساتھ پورے ملک میں جانے پہچانے جاتے ہیں ان کا مولانا مرحوم سے خاندانی اورسالے بہنوئی کا رشتہ ہے۔ مرحوم کے صاحبزادے مولانا عبداللہ اسامہ قاسمی نے نماز جنازہ اداکرائی۔پسماندگان میں بھائی اور بیوہ کے علاوہ چار بیٹے عبداللہ ، محمد بلال، محمد ہلال، محمد حسین، ابوبکراورایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ صبح تقریباً 9 بجے ادا کی گئی اور تدفین اشرف آ باد جاجمؤ میں عمل میں آئی۔

ادارہ حق ٹائمس مولانا کے پسماندگان اور ہزاروں متعلقین کے غم میں برابر کا شریک ہےاور قارئین سے اپیل کرتا ہے کہ دعاءکریں کہ اللہ آپ کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور بال بال ان کی مغفرت فرماکر جنت میں اعلی مقام عطافرمائے اور ان کے لگائے شجر کو سرسبز وشاداب رکھے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ( آمین)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading