محمد عظمت خان: دنیا کا سب سے بھاری وزن اٹھا کر انسانیت کو زندہ کر رہا چیمپین ویٹ لفٹر

ئئی دہلی ۔کورونا وائرس سے پھیلنے والی وبا نے ایک طرف جہاں پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور متعدد ممالک میں اس کی وجہ سے اموات کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری طرف یہ بیماری لوگوں کے لئے امتحان بھی ثابت ہو رہی ہے۔ کئی لوگ اپنے عزیزوں کو بھی لاوارس چھوڑ کر اس امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں لیکن چند لوگ نہ صرف امتحان میں کامیاب ہو رہے ہیں بلکہ انسانیت کو زندہ بھی کر رہے ہیں۔ بنگلورو کے چیمپین ویٹ لفٹر محمد عظمت بھی ایک ایسے ہی شخص ہیں جو اس وبائی دور میں لاشوں کو اٹھا کر اپنے دم پر دفن کر کے انسانیت کو زندہ کر رہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق عظمت اب تک متعدد لاشوں کو اپنے ساتھیوں کی مدد سے قبرستان میں لے جا کر دفنا چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مردوں کو دفن کرانے اب کوئی نہیں آتا۔ ہم تین لوگ ہی کئی لاشوں کی تدفین کر چکے ہیں۔ سماج میں لاشوں کو آخری سفر پر لے جانا خواہ عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن ان دنوں کووڈ-19 کے خطرے کے پیش نظر لوگ مردوں کی آخری رسومات سے دور ہی رہتے ہیں۔ کئی لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے تو کوئی بھی نہیں پہنچا۔

عظمت اس مہلت وائرس سے پوری طرح محتاط ہیں اور اپنی حفاظت کے لئے تمام تراکیب استعمال کر ہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو بھی خود سے دور آئسولیشن میں رکھا ہوا ہے۔ 43 سالہ عظمت کہتے ہیں ’’میں نے کئی مرتبہ پریکٹس میں اور کمپٹیشن میں بھی 300 کلو کے قریب وزن اٹھایا ہے لیکن جب میں نے اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے ایک بزرگ شخص کی لاش کی کرشچین قبرستان کے میدان میں لے جا کر تدفین کی تو مجھے جو درد محسوس ہوا اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘

پانچ فٹ 8 انچ قد کے اور 108 کلو وزن کے عظمت کہتے ہیں ’’اس بزرگ کی لاش کی تدفین کے لئے ہم تین ہی لوگ قبرستان میں تھے جو ان کے لئے دعا کر رہے تھے۔‘‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading