ناندیڑ:13ستمبر(ورق تازہ نیوز)بروز جمعہ 13ستمبر13محرم الحرام کو بعد نماز جمعہ سنی حنفی مرکزی دارالافتاءوالقضاءکے دفتر نزد حیدر گارڈن مال ٹیکڑی رود ناندیڑمیں جشن حضور مفتی اعظم ہند محمد مصطفی رضاخان ؓ کے ضمن میں ایک مختصر علمی و ادبی نشست عمل میں لائی گئی ۔جس میں علماءاہلسنت ناندیڑ کے علاوہ شہر کی علمی اورمعزز شخصیات نے شرکت کی ۔محبوب ذوالجلال کاعاشقِ صادق ‘اسلام وسنت کا مہکتا گلشن‘ شریعت وطریقت کانیّر تاباں ‘ علم وفضل کاکوہِ گراں ‘امام ابوحنیفہ کی فکر ‘ امام غزالی کا تصوف ‘ مولانا روم کا سوزو گداز‘ نوری میاں کا راج دُلارا ‘ امام احمدرضاخان ؓ کی آنکھ کاتارا اورسنیوںکاسہاراحضور مفتی اعظم حضرت محمد مصطفی رضا خان ؓ کاوصال91برس کی عمر میں 13محرم الحرام 1302ھ مطابق 12نومبر1981 کی نصف شب کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے ہواتھا ۔
حضرت مفتی محمد مرتضیٰ رضوی مصباحی کی نگرانی میں منعقدہ اس نشست میں شرکاءنے چند سوالات کئے جن کے مدلل ورمفصل جوابات حضرت مفتی محمد مرتضیٰ صاحب رضوی نے دئےے ۔ انھوں نے حضور مفتی اعظم ؓکی دینی اور ملی خدمات کا بڑے موثر انداز میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی ا س وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی کے دور میںنافذکی گئی تھی اور حکومت کے کارندے زبردستی باشندوں کو پکڑ کر ان کی نسبندی کررہے تھے ۔ان باشندوں میں مسلمان بھی تھے ۔ اسی زمانے میں دینی درس گاہ دیوبند کی جانب سے نس بندی کی تائید میں فتویٰ جاری کیاگیاتھا جس کی سارے ملک میں صرف حضور مفتی اعظم ہند ؓ نے مخالفت کی تھی ۔ انھوںنے فتویٰ جاری کیاتھا کہ اسلام میں نس بندی جائز نہیں ہے۔ وہ ملک کے واحد عالمم دین تھے جنہوں نے یہ فتویٰ جاری کیا تھا۔ اسی طرح انھوں نے قادیانیت کے خلاف بھی ملک بھر میں تحریک چلائی تھی ۔ا س نشست میں مدیراعلیٰ ”ور ق تازہ“ ناندیڑ کے علاوہ شہر اور بیرون شہر کے علمائے کرام میں حضرت مولانا سید احمدعلی دارالعلوم غریب نوازناندیڑ‘ حضرت مولانا رفیق برکاتی مصباحی ‘ حضرت حافظ ایوب احسن دارالعلوم غوثیہ رضویہ‘ حضرت مولانا صادق ‘ حضرت قاری مسیح انوررضوی دارالعلوم چشتیہ نوریہ ناندیڑ‘ حضرت حافظ غلام مصطفی صاحب مدرسہ کنز الایمان ‘حضرت قاری جعفر علی ‘مسجدتاج المساجد‘ناندیڑ‘ حضرت حافظ رضوان صاحب ‘مسجدرحمانیہ ملت نگرناندیڑ‘حضرت مولانا افسر رضا ‘مسجد یکخانہ‘حضرت حافظ عرفان ‘مسجد حبیبیہ قدوایی نگر ‘ حضرت مولانا محمدساجد خان ‘مدرسہ گنگا کھیڑ‘ حضرت حافظ سالم القادری‘حضرت حافظ مولانا علی نے شرکت کی ۔ آخر میں فاتحہ خوانی پر اس بابرکت نشست کااختتام عمل میںآیا۔