ذوالقرنین احمد
ویلنٹائن ڈے منانے والوں سے گزارش ہے کہ ویلنٹائن ڈے نا مناتے ہوئے نکاح کو آسان کرتے ہوئے شرعی طریقے پر نکاح کی سنت کی تکمیل کریں جسے آدھا دین کہا گیا ہے اس ہفتہ کو #نکاح_آسان_کرو_مہم کے طور پر منایا جائے۔ اور جو حضرات شادی شدہ ہوکر بھی ایسے حرام کام کرنے والے ہیں وہ دوسرے نکاح کی سنت کو ادا کریں حرام سے بچے وقتی لذت تو ختم جانے والی ہے لیکن اس کا گناہ باقی رہے گا اور جس کے ساتھ حرام کام کرنے جارہے ہیں اسکی عزت بھی تار تار ہو جائے گی، یہ دنیا مکافات عمل ہے یہاں کیے کا بدلہ تو یہاں مل کر رہے گا اور آخرت میں بھی روز محشر میں زبردست پکڑ ہوگی اور وہاں کوئی سفارش کام نہ آئی گی ۔ دل کا چین سکون حلال طریقے پر فطری عمل کو پورا کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔ ورنہ کتنی ہی پاکیزہ مقدس نفوس کی عزتیں تار تار ہوجائے گی اور معاشرہ میں بے یار و مددگار اولادیں وجود میں آئی گی جن کا کوئی قصور نہیں ہوگا لیکن وہ معاشرے میں سر اٹھا کر نہیں جی سکیں گے غربت بڑھتی جائے گی اور معاشرہ تباہی کا شکار ہوگا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تابعداری کریں۔ کیونکہ کسی چیز کی تخلیق کرنے والا جب اس چیز کو دنیا بھر میں متعارف کرواتا ہے تو اس کے قانون اصول و ضوابط ہوتے ہیں بغیر اصول و ضوابط کے اسے نا استعمال کیا جا سکتا نہ سمجھا جا سکتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات میں اس کے بنائے ہوئے قانون و ضوابط یعنی قرآن و حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کے بغیر دنیا میں زندگی گزارنا بے مقصد زندگی گزارنے کے مترادف ہے شریعت اسلامی کی پیروی کے بغیر حقیقی چین و سکون قلب میسر ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے ضروری ہے کہ شریعت پر عمل کریں، نہ کہ حرام کام کرکے دنیا و آخرت میں عزاب الٰہی کے مستحق بنے۔