جامعہ : حراست میں لئے تمام طلباء کو پولیس نے رہا کیا، کانگریس کا بی جے پی پر حملہ

حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا ترمیم شدہ شہریت قانون 2019 کو لے کر ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہیں ۔ کل دہلی کی معروف جامعہ یونیورسٹی میں اس کے خلاف مظاہرہ نے اس وقت پر تشدد شکل اختیار کر لی جب یہ خبر آئی کہ مظاہرین نے کئی بسوں کو آگ لگا دی اور پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو کر طلباء کے ساتھ زیادتی کی۔

دہلی پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے مظاہرین پر آنسو گیس چھوڑی اور لاٹھی چارج کیا جبکہ کئی لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نے گولی بھی چلائی ۔ طلباء کا الزام ہے کہ پولیس یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو گئی اور اس نے طلباء کے ساتھ زیادتی کی ۔ادھر جامعہ کی وی سی نجمہ اختر اور پراکٹر نے بیان دیا ہے کہ پولیس بغیر اجازت کیمپس میں داخل ہوئی۔ پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور کئی بسوں کو آگ لگا دی ۔


جامعہ کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں کی خبر آئی ہے۔ ادھر علی گڑھ اور سہارنپو ر کے ڈی ایم نے چوپیس گھنٹے کے لئے اپنے اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی ہیں ۔ مظاہروں کی خبریں پٹنہ یونیورسٹی سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ جامعہ میں پولیس زیادتیوں کے خلاف دہلی کی تینوں بڑی یونیورسٹی جامعہ، دہلی یونیورسٹی اور جے این یو کے طلباء اور ٹیچرس نے پولیس ہیڈکواٹر کے باہر دیر رات تک مظاہرہ کیا ۔ اس احتجاج کی وجہ سے دیر رات کالکا جی پولیس اسٹیشن میں حراست میں لئے گئے 35 طلباء کو رہا کر دیا جبکہ نیو فرینڈس کالونی پولیس اسٹیشن میں گرفتار 15 طلباء کو بھی رہا کر دیا۔



کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کے ذریعہ مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ملک کی یونیورسٹیوں میں گھس گھس کر طلباء کو پیٹا جا رہا ہے۔ جس وقت حکومت کو آگے بڑھ کر عوام کی سننی چاہئےاس وقت بی جے پی حکومت شمال مشرق، اتر پردیش اور دہلی میں طلباء اور صحافیوں پر زیادتی کر کےاپنی موجودگی درج کرا رہی ہے۔‘‘


ادھر رات کو کانگریس کے پون کھیڑا، دہلی یونیورسٹی طلباء یونین کی سابق صدر راگنی نائک اور کانگریس یوتھ کے رہنماؤ ں نے صحافیوں سے خطاب کر کےطلباء پر زیادتی کرنے کےلئےمرکزی حکومت کی تنقید کی ۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading