حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا ترمیم شدہ شہریت قانون 2019 کو لے کر ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہیں ۔ کل دہلی کی معروف جامعہ یونیورسٹی میں اس کے خلاف مظاہرہ نے اس وقت پر تشدد شکل اختیار کر لی جب یہ خبر آئی کہ مظاہرین نے کئی بسوں کو آگ لگا دی اور پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو کر طلباء کے ساتھ زیادتی کی۔
دہلی پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے مظاہرین پر آنسو گیس چھوڑی اور لاٹھی چارج کیا جبکہ کئی لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نے گولی بھی چلائی ۔ طلباء کا الزام ہے کہ پولیس یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو گئی اور اس نے طلباء کے ساتھ زیادتی کی ۔ادھر جامعہ کی وی سی نجمہ اختر اور پراکٹر نے بیان دیا ہے کہ پولیس بغیر اجازت کیمپس میں داخل ہوئی۔ پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور کئی بسوں کو آگ لگا دی ۔
Aligarh District Magistrate Chandra Bhushan Singh: Internet services have been suspended from 10 pm tonight to 10 pm tomorrow in the Aligarh city, in view of the protests by Aligarh Muslim University (AMU) students over #CitizenshipAmendmentAct.
— ANI UP (@ANINewsUP) December 15, 2019
جامعہ کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بھی پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپوں کی خبر آئی ہے۔ ادھر علی گڑھ اور سہارنپو ر کے ڈی ایم نے چوپیس گھنٹے کے لئے اپنے اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی ہیں ۔ مظاہروں کی خبریں پٹنہ یونیورسٹی سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ جامعہ میں پولیس زیادتیوں کے خلاف دہلی کی تینوں بڑی یونیورسٹی جامعہ، دہلی یونیورسٹی اور جے این یو کے طلباء اور ٹیچرس نے پولیس ہیڈکواٹر کے باہر دیر رات تک مظاہرہ کیا ۔ اس احتجاج کی وجہ سے دیر رات کالکا جی پولیس اسٹیشن میں حراست میں لئے گئے 35 طلباء کو رہا کر دیا جبکہ نیو فرینڈس کالونی پولیس اسٹیشن میں گرفتار 15 طلباء کو بھی رہا کر دیا۔
Delhi: Protesters, including Jawaharlal Nehru University students, hold demonstration at Delhi Police Headquarters, ITO, over Jamia Millia Islamia university incident. pic.twitter.com/0SfXYvt2Zm
— ANI (@ANI) December 15, 2019
देश के विश्वविद्यालयों में घुस घुसकर विद्यार्थियों को पीटा जा रहा है। जिस समय सरकार को आगे बढ़कर लोगों की बात सुननी चाहिए, उस समय भाजपा सरकार उत्तर पूर्व, उत्तर प्रदेश, दिल्ली में विद्यार्थियों और पत्रकारों पर दमन के जरिए अपनी मौजूदगी दर्ज करा रही है।
यह सरकर कायर है। #Shame
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) December 15, 2019
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کے ذریعہ مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ملک کی یونیورسٹیوں میں گھس گھس کر طلباء کو پیٹا جا رہا ہے۔ جس وقت حکومت کو آگے بڑھ کر عوام کی سننی چاہئےاس وقت بی جے پی حکومت شمال مشرق، اتر پردیش اور دہلی میں طلباء اور صحافیوں پر زیادتی کر کےاپنی موجودگی درج کرا رہی ہے۔‘‘
National Spokesperson Dr. @NayakRagini addresses the media on the protests in Delhi & the violence against Jamia Millia Islamia students. pic.twitter.com/x8TDKJUXL9
— Congress (@INCIndia) December 15, 2019
ادھر رات کو کانگریس کے پون کھیڑا، دہلی یونیورسٹی طلباء یونین کی سابق صدر راگنی نائک اور کانگریس یوتھ کے رہنماؤ ں نے صحافیوں سے خطاب کر کےطلباء پر زیادتی کرنے کےلئےمرکزی حکومت کی تنقید کی ۔
National Spokesperson Shri @Pawankhera addresses the media on the protests in Delhi & the violence against Jamia Millia Islamia students. pic.twitter.com/vPNBGO21AE
— Congress (@INCIndia) December 15, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
