بھیونڈی (شارف انصاری):- آج یہاں بھیونڈی شہر کے بالا کمپاونڈ میں واقع فلاحی تنظیم کی مرکزی آفس میں تھانے ، پالگھر ضلع دیہی مسلم فلاحی تنظیم کی 34 ویں سالانہ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں محمد آصف رئیس کی تلاوت کلام پاک سے تنظیم کے کار گزار صدر صغیر دھانگے کی صدارت میں مذکورہ میٹنگ کا آغاز کیا گیا ۔ سب سے پہلے تنظیم کے گزشتہ میٹنگ کی رپورٹ زبیر بوٹکے نے اور جنرل سیکریٹری امتیاز ملا نے تنظیم کی سالانہ رپورٹ پیش کی تنظیم کے نائب صدر اور بھیونڈی تعلقہ اتپن بازار سمیتی کے پہلے مسلم چیئرمین عرفان بھورے نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ۳۴ برس قبل ہمارے بزرگوں کے ذریعے قائم کی گئی تنظیم کی بقاء و ترقی کےلئے ہمیں کوشش کرنا ہمارا فرض ہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ تنظیم صرف کوکنی برادری کی ہرگز نہیں بلکہ ہر مکتب فکر اور ہر مسلک کی ہے اس لئے تمام لوگ تھانے وپالگھر میں تنظیم کی ممبر سازی کریں کیونکہ تنظیم کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے ۔ممبئی یونیورسٹی میں جوہار کی طالبہ ثانیہ حنیف گاندھی کے بی ایس سی میںٹاپ کرنے پر آج اس میٹنگ میں اس طالبہ کا استقبال کیا گیا جس توصیفی سند اور نقدی سے نوازہ گیا ۔تنظیم کے کار گزار صدر صغیر دھانگے نے صدرارتی خطبے میں کہا کہ ریاست مہاراشٹرا میں تنظیم واحد تنظیم ہے جو غیر سیاسی اور غیر مسلکی اصولوں پر قائم ہے صغیر دھانگے نے تنظیم کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تین دہائی قبل جب تھانے ضلع کے قصبہ جوہار میں فرقہ وارانہ تشدد برپا ہوا تھا تو تنظیم کے قائدین نے وزیر اعلی سے مل کر فوری طور پر حالات کو قابو میں لانے کی کامیاب کوشش کی تھی ۔
صغیر دھانگے نے حاضرین سے کہا ممبر سازی کریں پریشان حال مسلمانوں اور تعلیمی ضرورت مندوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے لوگوں کا تنظیم سے جڑنا اور اپنے صدقات زکات اور عطیات سے تنظیم کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے ۔امداد فراہمی کے لئے ڈبہ سسٹم شروع کیا گیا کہ روزانہ گھر کے افراد جمع کریں اور آفس میں لاکر ہفتہ واری یا ماہانہ جمع کرائیں انھوں نے کہا کہ تنظیم آمدنی کا ۶۰ساٹھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے اور مسلم نوجوانوں کی ترقیاتی پیش رفت پر حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے جیساکہ عرفان بھورے اور مزید ۱۲ طلباء کی آج نقد اور سند سے حوصلہ افزائی کی گئی پروگرام کیا نظامت زبیر احمد بوٹکے نےکی اور اظہار تشکر عبد الرشید نے کیا جبکہ کارگزار صدر صغیر احمد دھانگے کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا ۔