تھانے-بھائیندر کی 14,000 کروڑ روپے کی میگا منصوبوں کی ٹینڈرز منس وخ، سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد ایم ایم آر ڈی اے کا بڑا فیصلہ

تھانے-بھائیندر کی 14,000 کروڑ روپے کی میگا منصوبوں کی ٹینڈرز منسوخ، سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد ایم ایم آر ڈی اے کا بڑا فیصلہ

تھانے (آفتاب شیخ)
تھانے گھوڈبندر سے بھائیندر کو جوڑنے والے دو بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر مہاراشٹر حکومت نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کے ٹینڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ تقریباً 14,000 کروڑ روپے مالیت کے ان منصوبوں — ایک سرنگ اور ایک ایلیویٹڈ روڈ — کے لیے جاری کی گئی بولیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں قائم بینچ کے سامنے ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل مکُل روہتگی نے کہا:
"ہم نے دونوں ٹینڈرز کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت اب آئندہ قدم طے کرے گی۔"

اس بیان کے بعد سپریم کورٹ نے لارسَن اینڈ ٹوبرو (ایل اینڈ ٹی) لمیٹڈ کی وہ عرضی خارج کر دی جس میں بمبئی ہائی کورٹ کے 20 مئی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ حکومت ٹینڈرز دوبارہ جاری کرنے پر آمادہ ہے، لہٰذا یہ عرضی اب غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔

ہائی کورٹ کی تعطیلاتی بینچ نے پہلے ہی ایل اینڈ ٹی کو دو منصوبوں کے مالی ٹینڈرز کھولنے کے خلاف داخل عرضی میں کوئی عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایم ایم آر ڈی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور سینئر وکیل روہتگی نے عدالت کو یقین دلایا کہ بولی کی پوری کارروائی عوامی مفاد میں منسوخ کی گئی ہے، اور اتھارٹی ماہرین سے مشورے کے بعد آئندہ اقدامات کرے گی۔

ایل اینڈ ٹی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ٹینڈرز کے عمل میں شفافیت نہیں برتی گئی، اور اسے اس کی بولی کی پوزیشن کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی، جبکہ دیگر کمپنیوں کو اپ ڈیٹس دی گئیں۔ کمپنی کی قانونی ٹیم میں سینیئر وکلا کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی شامل تھے۔

یہ دونوں منصوبے — ایک 11 کلومیٹر لمبی سرنگ اور دوسری 9.8 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کریک روڈ برج — ممبئی کوسٹل روڈ پروجیکٹ کے توسیعی حصے ہیں۔ تخمینی لاگت کے مطابق سرنگ منصوبے کی مالیت تقریباً ₹8,000 کروڑ اور پل کی لاگت تقریباً ₹6,000 کروڑ ہے۔ یہ ایلیویٹڈ برج ممبئی ٹرانس ہاربر لنک (اٹل سیتو) کے بعد ریاست کا دوسرا سب سے بڑا پل ہو سکتا ہے۔

ایل اینڈ ٹی نے الزام لگایا کہ ایم ایم آر ڈی اے نے حیدرآباد کی کمپنی میگھا انجینیئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (MEIL) کو جانبدارانہ طور پر ایل-1 یعنی سب سے کم قیمت والی کمپنی قرار دیا، حالانکہ ایل اینڈ ٹی کی بولی MEIL سے کہیں کم تھی۔
کمپنی کے مطابق، سرنگ منصوبے میں اس کی بولی MEIL سے ₹2,521 کروڑ اور پل منصوبے میں ₹609 کروڑ کم تھی۔

تاہم ایم ایم آر ڈی اے نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایل اینڈ ٹی کی بولی مسترد کرنے کے "مناسب وجوہات" موجود تھے، اور عدالت نے یہ وجوہات ریکارڈ پر لینے کے بعد معاملہ نمٹا دیا۔

سپریم کورٹ کی سماعتوں کے دوران عدالت نے ایم ایم آر ڈی اے سے واضح طور پر استفسار کیا تھا کہ آیا وہ ان منصوبوں کے لیے نئے سرے سے ٹینڈرز جاری کرنے کو تیار ہے، اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عدالت موجودہ عمل پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔

یہ فیصلہ اگرچہ منصوبوں میں وقتی تاخیر کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ٹینڈرنگ میں شفافیت، احتساب اور منصفانہ مسابقت کے لیے ایک اہم مثال بھی قائم کرتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading