تنظیم سازی مہم کی دہلی میں میٹنگ مکمل، ضلع و تعلقہ سطح تک بڑے پ یمانے پر تقرریاں ہوں گی: ہرش وردھن سپکال

تنظیم سازی مہم کی دہلی میں میٹنگ مکمل، ضلع و تعلقہ سطح تک بڑے پیمانے پر تقرریاں ہوں گی: ہرش وردھن سپکال

چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاریخ کو مسخ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

بی جے پی اور آر ایس ایس سے وضاحت طلب، ایکناتھ شندے کی خاموشی پر سوال

نئی دہلی: کانگریس پارٹی کی تنظیمی سطح کو مستحکم کرنے کے لیے جاری تنظیم سازی مہم کے تحت نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بھر میں پارٹی کے ڈھانچے کو ازسرنو مضبوط بنانے اور نچلی سطح تک قیادت کو وسعت دینے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر کہا کہ اس مہم کے تحت ضلع، تعلقہ، منڈل اور گاؤں کی سطح تک بڑے پیمانے پر نئی تقرریاں کی جائیں گی، جس سے پارٹی کو زمینی سطح پر نئی طاقت ملے گی۔

نئی دہلی کے نئے مہاراشٹر سدن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے بتایا کہ اس میٹنگ میں ضلع اور تعلقہ سطح کی قیادت کے انتخاب کے عمل پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع صدور کے انتخاب کے لیے شفاف طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے اور اسی طرز پر تعلقہ سطح پر بھی نئے صدور کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ اس پورے عمل کو مثبت اور خوشگوار ماحول میں مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں پارٹی کو نئی قیادت میسر آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کے تحت تقریباً ۷ ہزار عہدیداران کی تقرری عمل میں لائی جائے گی، جس میں خواتین، پسماندہ طبقات، نوجوانوں اور مختلف سماجی طبقات کو بھرپور نمائندگی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بلاک سطح، سیوا دل، ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی شعبوں میں بھی نئی تقرریاں کی جائیں گی تاکہ پارٹی کا ڈھانچہ ہر سطح پر مضبوط اور فعال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں نئے اور تجربہ کار دونوں طرح کے افراد کو موقع دیا جائے گا تاکہ تنظیم میں توازن اور کارکردگی برقرار رہے۔

ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاریخ سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تاریخی شخصیت کو دانستہ طور پر مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افراد کی جانب سے شیواجی مہاراج کے کردار، کارناموں اور جنگی فتوحات کو کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف تاریخی حقائق کے خلاف ہے بلکہ عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھیریندر شاستری نے ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی موجودگی میں رام داس سوامی اور شیواجی مہاراج کے تعلق کو اس انداز میں پیش کیا جس سے ان کی تاریخی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر نہ تو بی جے پی نے کوئی وضاحت پیش کی اور نہ ہی آر ایس ایس نے اپنا مؤقف واضح کیا، جو باعثِ تشویش ہے۔

سپکال نےمزید کہا کہ دھیریندر شاستری کے بعد اب ’آنند سوروپ‘ یا ’دُکھ سوروپ‘ نامی ایک اور شخص کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شیواجی مہاراج نے جنگیں نہیں لڑیں بلکہ صرف چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ سپکال نے کہا کہ اس طرح کے بیانات کے ذریعے شیواجی مہاراج کی بہادری، قیادت اور کارناموں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ عناصر مسلسل شیواجی مہاراج کی تاریخ کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں، اور اس پر حکومت کی خاموشی ایک سنگین سوال ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور آر ایس ایس اس معاملے پر فوری وضاحت دیں اور ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

ہرش وردھن سپکال نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب شیواجی مہاراج کے بارے میں اس طرح کے متنازع بیانات دیے جا رہے ہیں تو شندے کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا شیواجی مہاراج کی اس طرح کی مسخ شدہ پیشکش ایکناتھ شندے اور ان کی شیوسینا کو قبول ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاریخی شخصیات کے احترام اور ان کی درست تاریخ کو محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں غلط تاریخ اور گمراہ کن بیانیے کو فروغ نہ مل سکے۔

MPCC Urdu News 29 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading