ن. ضیاء اللہ بھدراوتی…
ترکی نے فلسطین کی سرزمین پر قائم ہونے والی صیہونی ریاست اسرائیل کو قائم ہونے کے ایک سال بعد مارچ 1949 میں ہی رسمی طور پر قبول کر لیا تھا 1957 میں پہلا اسلامی ملک ترکی ہی تھا کہ جس نے اسرائیل کے سربراہ بن غوریون کا اپنی سرزمین پر استقبال کیا. 1958 میں اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن غوریون اور ترکی وزیراعظم عدنان مندریس کے مابین انتہاء پسندی اور مشرق وسطی میں روسی نفوذ کا مقابلہ کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔1986 میں ترکی نے اپنے سفارتکار تل ابیب ، اسرائیل میں تعینات کئے. اور 1991 میں دونوں ممالک کے مابین سفراء کی سطح کے تعلقات قائم ہوئے۔ اگست 1996 میں دونوں ملکوں کے مابین عسکری تعاون کے معاہدے ہوئے. جس کے تحت مشترکہ بری ، بحری اور فضائی فوجی مشقیں اور ڈائیلاگ وغیرہ شامل ہیں۔ترکی اسرائیل ساخت اسلحہ کا خریدار بھی ہے جن میں جنگی جہاز ، ٹینک اور توپخانے شامل ہیں۔یکم جنوری 2000 میں ترکی اور اسرائیل کے مابین ڈیوٹی فری تجارت کا معاہدہ طے پایا۔
اردوان کا دور حکومت اور ترک اسرائیل تعلقات جب اردوان کی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ نے نومبر 2002 کو اقتدار حاصل کیا. تو اردوان نے فورا امریکہ کا
سفر کیا وہاں یہودی لابی اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور تعلقات استوار کئے اور انہیں اعتماد میں لیا. بالخصوص ان سے ملا جو اکثر یہودی تھے. کہ جن میں بول وولویٹز ، ورچرڈ بیرل نائب وزیر دفاع شامل ہیں ۔یاد رہے کہ یہ دورہ امریکہ غیر سرکاری تھا.
دو سال بعد امریکی یہودی کانگریس نے پروفائل ایوارڈ رجب طیب اردوغان کو نوازا اور یہ ایوارڈ وصول کرنے والے پہلے مسلم رہنما ہیں اسکے دس سال بعد امریکی یہودی کانگریس کے صدر جیک روزن نے طیب اردوغان سے کے نام ایک خط میں کہا،، ایوارڈ وصول کرنے کے ایک عشرے کے بعد آپ ایک بڑے یہودی مخالف رہنما کے طور پر ابھرے ہیں اس لیے وہ ایوارڈ واپس کردیں
مارچ 2003 میں جب عراق پر امریکہ نے قبضہ کیا تو ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان نے پوری کوشش کی کہ امریکہ کے ساتھ ملکر عراق میں مداخلت کرے لیکن ترک پارلیمنٹ نے انکار کردیا۔
جون 2004 کو مشرق وسطیٰ کے وسیع البنیاد امریکی منصوبے کے سربراہی اجلاس میں اردوان نے شرکت کی. اور امریکہ وترکی کے باھمی تعاون سے خطے کا نیا روڈ میپ بنانے پر تعاون وہمکاری اور ترکی کی حزب عدالت وترقی کی حکومت کو ایک اسلامی ڈیموکریٹک لیبرل نظام بطور نمونہ خطے میں متعارف کروانے کی کوشش پر اتفاق ہوا۔
25 جنوری 2004 امریکی یہودی کانفرنس تنظیم AJC نے اسے تمغہ شجاعت سے نوازا گیا . اس کے بعد اردوان کے یہودی لابی کے تمام اداروں سے تعلقات بڑھنے لگے۔
مئی 2005 کو اردوان نے اسرائیل کا دورہ کیا. اور اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے انکا بڑا پر تپاک استقبال کرتے ہوئے کہا ” اسرائیل کے ابدی دارالحکومت قدس شہر میں خوش آمدید ” اردوان نے جب اس بات پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا تو اسے اپنے سابق سربراہ نجم الدین اربکان کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ” جس نے اس پر امریکہ ویہودی لابی اور عالمی صہیونیت کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگایا ”
10 جون 2005 کو امریکی یہودی ادارے ADL نے بھی اردوان کو نشان شجاعت سیاسی کا تمغہ عطا کیا۔
15 فروری 2006 کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے انقرہ کا دورہ کیا. اردوان نے بذات خود امریکا اور اسرائیل کے ڈر سے اس سے ملنے سے اجتناب کیا۔ اس وقت کے وزیر خارجہ عبداللہ گل نے وزارت خارجہ آفس کی بجائے اپنی پارٹی کے دفتر میں اس سے ملاقات کی اور اسے نصیحت کی کہ اسرائیل کے خلاف عسکری عمل کو ترک کر دیںاور یہ دور حماس کی فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کا تھا۔
13 نومبر 2007 کو اسرائیل کے صدر پیریز کو ترکی کے دورے کی دعوت دی. اور یہ پہلا اسرائیلی صدر تھا کہ جس نے ترک پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔
اردوان نے دمشق اور تل ابیب کے مابین تعلقات قائم کرانے اور شدت کو کم کرنے کے لئے کوششیں کیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم اولمرٹ نے اسے دھوکا دیا اور 27 دسمبر 2008 کو غزہ کے خلاف جنگ شروع کر دی۔
2009 کو ترکی نے اسرائیل کی کمپنی کو شام ترکی سرحدی علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا ٹھیکہ دیا۔پھر 31 مئی 2010 کو اسرائیل نے اہل غزہ کی امدادی سامان لانے والے سفینہ مرمرہ پر بھی حملہ کر دیا. اور 10 ترکی باشندے بھی مارے گئے. جس سے ترکی واسرائیل کے تعلقات خراب ہوئے۔امریکی صدر اوباما نے 22 مارچ 2013 کے اسرائیلی دورے کے وقت اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو راضی کیا کہ وہ اردوان کو فون کرے. اور مرمرہ سفینے پر حملے کرنے کی معذرت بھی کرے۔
معذرت کے بعد دونوں اطراف نے آپس میں مل بیٹھ کر مسئلے کو رفع دفع کیا. 10 اپریل 2016 کو اسرائیل نے کہا کہ جن خاندانوں کا جانی نقصان ہوا ہم اسکی تعویض یا خون بہا نہیں بلکہ فقط 20 ملین ڈالرز مالی امداد دیں گےجس کے مقابل میں اسرائیل کے خلاف جتنے بین الاقوامی عدالتوں میں کیسز ہیں وہ واپس لینے ہونگے۔
اسرائیل اور ترکی کا سال 2018 میں تجارتی حجم تقریبا 6 ارب ڈالرز پہنچ چکا تھا اور اس سال تین لاکھ بیس ھزار اسرائیل باشندوں نے سیاحت کے عنوان پر ترکی کا سفر بھی کیا۔
ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ٹھیک بھی ہوتے ہیں پھرکسی بنا کی بنیاد پر خراب بھی ہوجاتے ہیں
ترکی جس طرح تعلقات رکھتا اسکے پیچھے فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنی ہوتی ہے
اگر فلسطینی نے مدد کرنا ہے تو اسرائیل سے رسمی طور پر تعلقات رکھنا ضروری ہے
ہمیشہ ترکی نے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کی ہے انشاء اللہ بلند کرتے رہیں گے
عزت مآب جناب رجب طیب اردوغان نے ہر اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیل کو بے نقاب کیا ہے
ابھی کروناوائرس کے دنوں میں ترکی نے اسرائیل کو امداد بھیجی ہے اسکی ایک وجہ یہ ہے ایک انسانیت کی خدمت .دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر ترکی اسرائیل کے بجائے فلسطین کو امداد بھیجتا تو یہ امداد پہنچ نہ پاتی اسکی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اسرائیل کو رسد بھیجا جائے پھر فلسطین کو ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد فلسطینی بھائیوں کی بہت خدمت کی ہے تل ابیب میں واقع ترک سفارت خانے نے وقتاً فوقتاً فلسطین کی خدمت کرتے آرہے ہیں.یاد رہے کہ آہستہ آہستہ آذربائیجان پھر دوسرے ممالک نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں