تحریک آزادی میں اُردو شعراءکا کردار

ڈاکٹر ضامن علی حسرت ، نظام آباد۔موبائل: 9440882330
انگریز قوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُس نے آدھی سے زیادہ دنیا کو اپنا غلام بنا کر اُن پر حکومت کی ہے۔اُن ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ کبھی ہمارا یہ ملک انگریزوں کاغلام ہوا کرتا تھا اور ہم غلامی کی فضاءمیں سانس لینے پر مجبور تھے۔ دنیا کی کسی بھی غیرت مند قوم غلامی کی زندگی کو قطعی برداشت نہیں کرتی۔ آزادی ہر ملک کا بنیادی حق ہے۔ کوئی بڑی طاقت اپنی طاقت کے زور پر کسی ملک کا اپنا غلام تو بناسکتی ہے لیکن اُس ملک کی عوام کی آزادی کے جذبہ کو زیادہ دیر تک دبا کر نہیں رکھ سکتی۔ جس دن عوام کا سویا ہوا شعور جاگ اُٹھتا ہے تب اُنکی آزادی کی جدوجہد جنون کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ اور جب آزادی کا یہ جنون سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے تو حکمرانوں کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے اور اُنہیں اُس ملک سے بھاگنا ہی پڑتا ہے جس کوانہوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنا غلام بنا رکھاتھا۔ ہم ہندوستانیوں نے بھی انگریزوں سے لڑکر اپنے ملک کو آزاد کروایا ہے۔ جنگِ آزادی کی اس تحریک میں ہندوستان کے سبھی مذہبوں کو ماننے والے ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائیوں نے آپس میں متحد ہوکر آزادی کی یہ جنگ لڑی تھی۔ اور سبھی کی زبان پر اُس وقت یہی شعر تھا ….
 سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازو قاتل میں ہے
 آزی کی تحریک میں ہمارے علماءبھی شانہ بہ شانہ آزادی کے متوالوں کے ساتھ تھے۔اور اپنے وطن کی آزادی کی اس جنگ میں ہمارے سینکڑوں علماءشہید ہوگئے۔ علماو¿ں، مجاہدین کے ساتھ ساتھ اُردو کے سینکڑوں شعراءنے بھی اِ س تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور اپنی شاعری کے ذریعہ اِ ن شعراء نے قوم کے اندر آزادی کی جوت کو جلائے رکھا۔ جس کے عوض انہیں جیل کی صعوبتیں ،تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اُردو کے اِن جیالے حوصلہ مند شعراءنے اِن کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر اپنے آزادی کے مشن کو برقرار رکھا۔ اور جیل کی چہار دیواری کے اند ربھی اپنی شاعری کی مشق کو جاری رکھا، حسرت موہانی جنہوں نے آزادی کے متوالوں کو سب سے پہلے انقلاب کا نعرہ دیا تھا۔ انھیں بھی تحریک آزادی کے دوران جیل جانا پڑا ، انہوں نے جیل کے اندر یہ خوبصورت شعر کہا ….
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی اِک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
اُردو کے بہت سارے شعراء۷۵۸۱ءکی تحریک آزادی میں بُری طرح پھنس گئے تھے اس کے باوجود اُنھوں نے اپنا حوصلہ نہیں ہارا اور عملی طو رپر اُنھوں نے اس جنگ آزادی میں اپنا بھر پور رول ادا کیا۔ بغاوت سے پہلے ہی اُردو شاعری میںا نگریز دُشمنی کے حالات کا اثر بڑھنے لگا ، اور اس بغاوت کا سب سے زیادہ زور دہلی میں دیکھنے کو ملا۔ چونکہ دہلی میں اُس وقت شعرو شاعری کی محفلیں سرد پڑچکی تھیں، ہر طرف سیاسی اور معاشی بحرانی کی کیفیت تھی۔ اس معاشی و سیاسی ابتری کے حالات میں بھی محمد شاہ رنگیلے نے شعر و سخن کا پرچم تھامے رکھا اور بہادر شاہ ظفر کے زمانے تک دہلی میں بیسوںباکمال شاعر جمع ہوگئے تھے۔اِن میں امام بخش صہبائی، ابراہم ذوق، صدرالدین آزاد، مرزا اسد اللہ خاں غالب، مصطفی خاں شیفتہ ، حکیم آغاجان بخش جیسے کہنہ مشق و اُستاد شاعر موجود تھے۔ جو تحریک آزادی میں اپنے فن کی خوشبو کو پھیلا ئے ہوئے تھے۔ دوسری جانب آزاد، حالی ، داغ، بخش صابر شہاب الدین ثاقب، سالک، مجروع مرزا نور باقر علی کامل وغیرہ جیسے نو عمر شعراءبھی تحریک آزادی میں اپنا کردار نبھانے کے لئے تیار تھے۔ بقول صاحب، گل رعنا کے” جب یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو فلک کو بھی زمین پر رشک ہونے لگتا ہے کہ اردو کے ایسے باکمال و باصلاحیت شعراءسب ایک جگہ جمع ہیں اور سبھی کا ایک ہی مقصد تھا کہ آزادی کی جنگ میں کس طرح سے اپنے فن کا کمال دکھایا جائے اور اپنے وطن عزیز کو اِن انگریزوں کی غلامی سے کیسے آزاد کروایا جائے۔ تحریک آزادی کے وقت اُردو کے انقلابی شاعر صہبائی کوچہ چیلان میں رہتے تھے۔ انگریزوں نے کوچہ چیلان پر حملہ کر دیا اور صہبائی اس حملے کی زد میں آگئے۔ کئی بے گناہ معصوم لوگ قتل کردیئے گئے۔ صہبائی بھی قتل کردیئے گئے ان کے ساتھ ان کے بیٹے عبدالکریم سوز ( جو اردو کے بہت اچھے شاعر تھے ) بھی ہلاک کردیئے گئے۔ اس قتل عام میں صہبائی کے کنبہ کے جملہ چار افراد قتل ہوئے ۔ صہبائی کے ہمعصر شاعر آزادی اس واقعہ پر بے حد رنجور تھے۔ اُنھوں نے اپنے غم کا اظہار اپنے شعر میں کچھ اس طرح سے کیا ہے
کیوں کہ آزردہ نکل جا ئے نہ سودائی ہو قتل اس طرح سے بے جرم جو صہبائی ہو
تحریک آزادی میں اُردو شعراءکی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جنہوں نے اپنے وطن کی بربادی سے متعلق اپنے شدید غم کا اظہار اپنی غزلوں کے ذریعہ نہایت ہی موثر ڈھنگ سے کیا ہے۔ ان شعراءمیں شہاب الدین ثاقب، داغ، مززا حسین علی خاں ، قربان علی بیگ سالک، مصطفی خاں شیفتہ، قادر بخت صابر، ظہیر الدین ظہیر، باقر علی خاں کامل اور میر مہدی مجروع کے نام شامل ہیں۔ یہ سارے ہی شعراءاپنے کلام کے ذریعہ ملک کی عوام کو آزادی کا پیام دیتے ہوئے اُن سے درد مندانہ اپیل کر رہے تھے کہ وہ آزادی کی شمع کو اپنے دل میں جلائے رکھیں اور تب تلک چین سے نہ بیٹھیں جب تک ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد نہیں ہوجاتا۔ اُردو شاعروں میں مومن اس آزادی کی تحریک سے بے حد متاثر تھے۔ مومن شاہ اسمٰعیل شہید کے ہم سبق اور مولوی سید احمد بریلوی کے مرید تھے۔ ان بزرگوں کے خیالات کا اثر مومن پر اس قدر ہوا کہ بقول خواجہ احمد فاروقی ” مومن غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کو اصل ایمان اور اپنی جان کو ملک کی آزادی کے راہ میں قربان کردینے کو سب سے بڑی عبادت سمجھتے تھے۔ تحریک آزادی کے دوران لکھی گئی مومن کی ایک مثنوی کے چند اشعار ملاحظہ کریں جو مومن نے آزادی کے جذبہ سے سرشار ہو کر لکھے ہیں….
 اب وقت ہے یہ جو ہمت کرو حیاتِ ابد ہے جو اس دم مرو
 سعادت ہے جو جانفشانی کرے  یہاں اور وہاں کا مرانی کرے
 الٰہی مجھے بھی ہو شہادت نصیب  یہ افضل سے افضل عبادت نصیب
  الٰہی اگرچہ ہو ں تیرہ کار  پر تیرے کرم کا ہوں اُمیدوار
 یہ دعوت ہو مقبول درگا ہ میں  مری جاں فدا ہو تیری راہ میں
 میں گنج شہیدوں میں مسرور ہوں  اسی فوج کے ساتھ محشور ہوں
تحریک آزاد میں تقریباً سبھی شعراءنے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ تقریباً 375 اہم شعراءکا ذکر ملتا ہے جنھوں نے آزادی کے لئے اپنا تن، من دھن سب کچھ داو¿ پر لگادیا تھا۔ ان میںسے کچھ ایسے شعراءبھی تھے جو ان واقعات کے آسودہ ¿ حال تماشائی نہیں رہے بلکہ اس دریا خوں کے شنادر بن گئے۔ انھوں نے قلم سے تلوار کا کام لیا اور انگریزوں کے خلاف بہترین غزلیں اور نظمیں لکھیں۔ بے شمار شعراءنے بڑی بڑی قربانی دیں ، مصیبتں جھیلیں اور قید و بند کی سخت و کڑی اذیتیں برداشت کیں ایسے مشکل حالات میں بھی نہ اِنکی پیشانی پر سلوٹیں اُبھرآتی تھیں او رنہ ہی منہ سے کوئی آہ ہی نکلتی تھی۔ بلکہ اُسوقت کے مورخین لکھتے ہیں کہ ان بہادر جیالے شاعروں کے ہونٹوں پہ ایک تبسم ہوا کرتا تھا اور اُنکی آنکھوں میں اُمید کی کرن نظر آتی تھی۔
۷۵۸۱ءکے واقعات کی طرف اُردو شاعروں کا ردّ عمل مختلف متنوع طریقوں سے ہوا۔ غدر کے واقعات کو غالب نے بھی بُرے ناموں اور ایک ڈراو¿نے خواب سے تعبیر کیا ہے۔ اس ہنگامے سے اِن کے مشغیل کا نقشہ بگڑ گیا تھا لیکن اس بات کا یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ غالب کا دل حب الوطنی کے جذبے سے عاری تھا یا انھیں اپنے ہم وطنوں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ غدر کے بعد انگریزوں نے اُردو شعراءپر مظالم کے جو پہاڑ توڑے تھے غالب کو ا س بات کا احساس تھا۔ اپنے طبقے کی پامالی اورشہر کی ویرانی کا جو تذکرہ غالب کے ہاں ملتا ہے وہ بڑا ہی درد ناک ہے۔ دلی پر انگریزوں کے غلبے کے بعد کس میںا تنی ہمت تھی کہ وہ انگریزوں کے خلاف ایک لفظ بھی کہہ سکتا۔ لیکن مرزا غالب کے خطوط میں انگریزوں کی زیادتیوں اور سختیوں کی طرف زبردست اشارے ملتے ہیں۔ غالب بھی ایک الگ اندا زمیں تحریک آزادی سے جُڑے ہوئے تھے۔ غالب نے اپنی آنکھوں سے انگریزوں کا ظلم اور اپنے ساتھیوں کی مظلومیت و بے کسی دیکھی تھی۔ اپنے اس احساس کو اپنے اِ س جذبہ کو اُنھوں نے اپنے اشعار میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے ….
 گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے  زہر ہ ہوتا ہے آپ انسان کا
 چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے  گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
 میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا  وہی رونا تن و دل و جاں کا
        گاہ جل کر کیا کئے  شکوہ  سوزش  داغ  ہائے پنہاں
        اس طرح کے وصال سے یا رب  کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
غالب کی طرح شیفتہ بھی انگریزوں کے ظلم و ستم سے سخت نالاں تھے۔ قلم کی سپاہی تھے۔ اس لئے اپنے دل کی بھڑاس اپنے اشعار میں نکالتے تھے۔ شیفتہ کی بھی جاگیر ضبط ہوگئی تھی۔ ابتدائی عدالت نے 7برس کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں کسی طرح سے بری ہوگئے۔ اپنی تکلیفوں اور پریشانیوں کا تذکرہ شیفتہ نے اپنے اشعار میں کچھ اسطرح سے کیا ….
ہائے دہلی و زہے شدگانِ دہلیآپ حنیت میں ہیں اور دل نگرانِ دہلی
وہی جلوہ نظر آتا ہے تصور میں ہمیں مٹ گئے پھر بھی یہ باقی ہے نشانِ دہلی
گر نہ کہو یں کہ یہ دلی ہے تو ہرگیز نہ پڑےدلی والوں کو بھی دلی پہ گمانِ دہلی
تحریک آزادی کے حالات سے ایسا کونسا شاعرتھا جو متاثر نہ تھا۔ اس زمانے کے حالات سے متاثر ہو کر داغنے جو شہر آشوب لکھا تھا”فقانِ دہلی“ میں درج ہے۔ داغ نے جنگ و جدال کا تذکرہ اور دل کی بربادی کے حالات کو اپنے اشعار میں کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے….
یہ شہر وہ ہے کہ انس و جان کا دل تھا یہ شہر وہ ہے کہ ہر قدر دان کا دل تھا
یہ شہر وہ ہے کہ ہندوستا ن کا دل تھا یہ شہر وہ ہے کہ سارے جہان کا دل تھا
رہی نہ آدھی یہاں سنگ و خشت کی صورت  بنی ہوئی تھی جو ساری بہشت کی صورت
فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا  تمام پردہ¿ ناموس چاک کر ��ڈالا
جلی ہیں دُھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں  کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں
مقامِ اَمن جو ڈھونڈا تو راہ بھی نہ ملی  یہ قہر تھا کہ خد ا کی پناہ بھی نہ ملی
تحریک آزادی کے دور کا ہر شاعر آزادی کی اس تحریک میں حصّہ لینا اپنا اولین فرض سمجھتا تھا۔ ہر شاعر کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ اِس تحریک کا حصّہ بنے اور اپنے حصے کا رول ادا کرے۔ ہم نے پڑھا ہے اور دیکھا ہے کہ لوگ جب تحریکوں سے جُٹرتے ہیں تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور خود کو سب سے بڑا حُب الوطن بتلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب تحریک میں قربانی دینے اور خود کو وقف کرنے کا وقت آتا ہے تو میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔یا پھر شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپاکر تحریک کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ شاید اِسی بزدلی اور بھگوڑے پن کی وجہہ سے اکثر بڑی بڑی بامقصد اور اہم تحریکیں وقت سے پہلے ہی دم توڑدیتی ہیں۔لیکن آزادی کی تحریک ایک ایسی تحریک کے طور پر یاد رکھی جائے گی جس میں سبھی شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے اپنے وطن کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا۔ ایسی تحریک میں سینکڑوں اُردو کے شعراءنے اپنا سب کچھ گنوادیا، جائیداد، جان، مال یہاں تک کہ اپنے نام و نمود کو بھی آزادی کے تحریک کی چوکھٹ پر قربان کردیا۔ تحریک آزادی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس تحریک کے واقعات میں اُردو شاعروں کا جو کردار رہا اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس ہنگامہ کے بعض سرگروہ مثلاً بہادر شاہ ظفر، مرزا سلطان، مرزا برجس قدر اور نواب دہلوی، دہلی کے ان چند نوابوں اور راجاو¿ں میں سے تھے جنھوں نے غدر کے زمانے میں انگریزوں کے خلاف نہایت بہادری اور پامردی سے لڑائیاں لڑیں۔ انگریزوں کے غلبہ کے بعد یہ سب گرفتار ہوئے اور ان میں سے کچھ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ مرزا خضر سلطان بہادر شاہ ظفر کے سب سے چھوٹے شہزادے تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور غالب سے مشورہ سخن کیا کرتے تھے۔ میجر ہڈسن نے مرزا سلطان کو اپنی گولی کا نشانہ بناتے ہوئے اُنھیں موت کی نیند سلادی، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی مرزا خضر سلطان کی لاش کو چاندنی چوک کوتوالی کے سامنے پھانشی کے تختے پر ایک رات اور ایک دن سرِ بازار لٹکا کر رکھا۔ انگریز اپنی اس گھناو¿نی حرکت سے دیگر باغیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ غدر کی اِس جنگ میں باغیوں و انقلابیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ اس زمانے میں اُردو کے بہت سے شعراءنے جوش اور ولولوں سے بھرے ہوئے جنگی اشعار کہے ہیں جو بطور نعرہ بھی استعمال ہوتے تھے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں ….
لبالب پیالہ بھرا خون سے فرنگی کو مارا بڑی دُھوم سے
دمدمے میں دم نہیں خیر مانگو جان کی ائے ظفر ٹھنڈی ہوئی شمشیر ہندوستان کی
نمازیوں میں بُو رہے گی جب تلک ایمان کی تب تو لندن تک چلے کی تیغ ہندوستان کی
بے شمار اُردو شعراءتحریک آزادی سے جُڑے اور اُن کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگیا تحریک آزادی کی اِس مہم میں حصہ لینے والے شعراءمیں دو خاص نام کامریڈ مخدوم محی الدین اور فیض احمد فیض کا بھی ہے۔ فیض اور مخدوم بھی انگریزی بر بریت اور ظلم سے شدید ناراض تھے۔ دونوں نے تحریک آزادی سے متعلق دو خوبصورت اور اثر انگیز نظمیں لکھی تھیں مخدوم کی نظم ” چاند تاروں کا بن“ اور فیض احمد فیض کی نظم ”صبح آزادی“ نے اُسوقت کے آزادی کے پروانوں میں ایک جوش اور ولولہ بھر دیا تھا۔ دونوں کی نظموں میں آزادی کے متوالوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ آزادی کی یہ جنگ اُسوقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ آزادی نہیں مل جاتی۔ اِ س موقع پر فیض اور مخدوم کی نظموں کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔ فیض کی نظم ”صبح آزادی“ کے اشعار ملاحظہ کریں….
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گذیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہی ں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا موج کا  ساحل
جواں لہو کی پُر اسرار شاہراہوں پرچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کے بے صبر خواب گاہوں سے پکارتی رہیں بانہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رُخِ سحر کی لگنبہت قریب تھا حسینانِ نور کا دامن
سُبک سُبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
مخدوم آزادی کے متوالوں سے اپنی نظم ” چاند تاروں کا بن “ میں کچھ اِس طرح سے مخاطب ہیں ملاحظہ کریں….
موسم کی طرح جلتے رہے ، ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمعِ صبحِ وطن تشنگی تھی مگر
تشنگی میں بھی سر شاد تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئےمنتظر مرد و زن
مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم، ختم تھا بانکپن
راکے کے جگمگارے دہکتے بدن
اسی نظم کا ایک اور بند ملاحظہ کریں کہ مخدوم تحریک آزای کے پرواوں سے کیا کہنا چاہتے ہیں ….
رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے
صبح کا کچھ اُجالا، اُجالا بھی ہےہم دمو
ہاتھ میں ہاتھ دوسوئے منزل چلو
منزلیں داد کیکوئے دل دار کی منزلیں
دوش پر اپنی صلیبیں اُٹھائے چلو
یہ خوبصورت بامعنی و با مقصدی نظمیں جو اپنی وطن کی آزادی کے لئے اپنے خونِ دل سے لکھی گئی ہیں۔ اِن نظموں نے فیض احمد فیض اور مخدوم محی الدین کا نام آزادی کے جذبے سے سرشار اُن شعراءکی فہرست میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا جنہوں نے تحریک آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ ”تحریک آزادی میں اُردو شعراءکا کردار“ یہ ایسا موضوع ہے جسے چند صفحات میں سمیٹنا مشکل ہے۔ اس وسیع اور اہم موضوع کے لئے بے شمار صفحات درکار ہیں۔میں نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ تحریک آزادی سے جُڑے ہوئے سینکڑوں شعراءمیں سے چند اہم شعراءکا تذکرہ کرسکوں۔ آخر میں بہادر شاہ ظفر کے چند اشعار پر اپنے اس مقالے کا اختتام کرنا چاہونگا۔میرے خیال میں تحریک آزادی میںسب سے زیادہ نقصان بہادر شاہ ظفر ( جو سلطنت مغلیہ کے آخری تاجدار تھے) کا ہوا ہے۔ اپنے وقت کے ایک شاہ کے لئے اِس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اُسے اپنے ہی وطن میں دوگز زمین دفن ہونے کے لئے نہ مل سکی۔ اپنی اِس تکلیف کا اپنے اس درد کا تذکرہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے اِن اشعار میں کچھ اس طرح کیا ہے ….
 نہ دبایا زیر زمیں انہیں، نہ دیا کسی نے کفن انہیں نہ ہوا نصیب وطن انہیں، نہ کہیں نشان مزار ہے
کوئی کیوں کسی کا لُبھائے دل، کوئی کیا کسی سے لگائے دلوہ جو بیچتے تھے دوائےِ دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
 نہ کسی کی آنکھ کا نُور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںجو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
 نہ دبا یا زیر چمن انہیں نہ دی گور اور نہ کفن انہیںکیا کس نے یارو دفن انھیں بے ٹھکانے جن کی مزار ہے
٭٭٭

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading