لکھنؤ:07نومبر(یواین آئی) اترپردیش پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے(اے ٹی ایس) نے غیر قانونی تبدیلی مذہب معاملے میں گرفتار عمر گوتم کے بیٹے عبد اللہ کو بھی اتوار کو گرفتار کرلیا۔الزام ہے کہ عبداللہ ہی تبدیلی مذہب کرنے والوں کو فنڈنگ کررہا تھا۔وہ عمر گوتم کے الفاروقی مدرسہ و مسجد اور سلامک دعوی سنٹر کا کام دیکھتا تھا۔وہ اس سے قبل گرفتار کئے گئے ملزمین سے لگاتار رابطے میں تھا۔ اس معاملے میں اب تک اترپردیش کے علاوہ مختلف ریاستوں سے 16افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
جن میں عمر گوتم، مولانا کلیم صدیقی سمیت مہاراشٹرا نیٹورک رامیشور کاوڑے عرف آدم عرف اڈم، بھوپریا بندو عرف ارسلان مصطفی ،کوثر عالم ، حافظ ادریس، محمد سلیم، دھیرجگ تاپ و سرفرار جعفری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔پولیس کے دعوی کے مطابق تبدیلی مذہب سنڈیکیٹ چلانے کے لئے انہیں بیرون ممالک سے بھی کثیر مقدار میں فنڈنگ ملتی تھی اس کے پولیس کو پختہ ثبوت ملے ہیں۔ عمر گوتم اور اس کے ساتھیوں کو بیرون ممالک سے تقریبا 57کروڑ ورپئے کی فنڈنگ ہوئی ہے جس کے خرچ کی تفصیلات عمر گوتم اور ان کے ساتھی نہیں دے سکے ہیں۔