بی جے پی کنفیوزڈ، پہلے کہا’اولا-اوبیر‘ نے ملازمت پیدا کی، اب بتا رہی مندی کی وجہ: پرینکا

ملک میں معاشی بحران کی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے اور ایسے ماحول میں آٹو سیکٹر میں مندی اور گاڑیوں کی فروخت میں گراوٹ کو لے کر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے اس بیان کو نشانہ بنایا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اولا-اوبیر کی وجہ سے آٹو سیکٹر میں مندی آ گئی ہے۔

پرینکا گاندھی نے اس سلسلے میں ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’الیکشن سے پہلے بولا گیا کہ اولا-اوبیر نے روزگار بڑھائے ہیں۔ اب بولا جا رہا ہے کہ اولا-اوبیر کی وجہ سے آٹو سیکٹر میں مندی آ گئی ہے۔ بی جے پی حکومت معیشت کے معاملے میں اتنی کنفیوزڈ کیوں ہے؟‘‘


غور طلب ہے کہ وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’آٹو موبائل انڈسٹری پر بی ایس 6 اور لوگوں کی سوچ میں آئی تبدیلی کا اثر پڑ رہا ہے۔ لوگ اب گاڑی خریدنے کی جگہ اولا یا اوبیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘ حالانکہ ان کے بیان کے فوراً بعد ہی ماروتی کے چیئرمین آر سی بھارگو نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اولا-اوبیر کی وجہ سے کاروں کی فروخت پر اثر پڑا ہے۔ انھوں نے اس کے لیے حکومت کی پالیسیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ بھارگو نے بتایا تھا کہ پٹرول-ڈیزل کی اونچی ٹیکس شرح اور روڈ ٹیکس کی وجہ سے بھی لوگ کار خریدنے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے کہا تھا کہ جی ایس ٹی کی تخفیف سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ دوسری طرف انڈسٹری اس سستی سے نمٹنے کے لیے جی ایس ٹی میں تخفیف کی مانگ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اس سے پہلے بھی ملک کی معاشی حالت کو لے کر کئی ٹوئٹس کیے ہیں اور مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے قبل میں کہا تھا کہ ’’معیشت اب مندی کے گہرے کنویں میں گرتی جا رہی ہے۔ لاکھوں ہندوستانیوں کے روزگار پر تلوار لٹک رہی ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’آٹو سیکٹر اور ٹرک سیکٹر میں گراوٹ ’پروڈکشن-ٹرانسپورٹیشن‘ میں منفی ڈیولپمنٹ اور بازار کے ٹوٹتے بھروسے کی نشانی ہے۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی سوال کیا تھا کہ ’’حکومت کب اپنی آنکھیں کھولے گی۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading